سٹی42: یکم جولائی کا کیلنڈر پر آغاز ہوئے ایک گھنٹہ بیت گیا لیکن وفاقی ھکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفیکیشن اب تک جاری نہیں کیا گیا۔ اس تاخیر کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لئے بضد ہے اور انتظامی ہاب تک یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی کہ پٹرول، ڈیزل کی نئی قیمت کیا مقرر کی جائے۔
اس سے پہلے۔۔۔
پاکستانی عوام کیلئے خوشخبری یہ ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں آج رات بیک وقت 15 روپے فی لٹر اضافہ کی قیاس آرائیاں غلط ہیں۔ آج رات تین گھنٹے بعد پٹرول، ڈیزل کی قیمت کیا ہو گی، سرکاری زرائع نے سچ بتا دیا.
ذمہ دار سرکاری زرائع بتا رہے ہیں کہ کچھ گھنٹے بعد پٹرول، ڈیزل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی یکم جولائی سے 15 جولائی کیلئے نئی قیمتوں کا اعلان کیا جا ئے گا تو عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی عمومی پالیسی کے تحت پٹرولیم پروڈکٹس کی قیمت مین صرف چند روپے فی لٹر کا انتہائی ناگزیر اضافہ ہی کیا جائے گا۔
ذمہ دار سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمت آج شب 12 بجے سے آٹھ روپے فی لٹر تک برھ سکتی ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ اس سے کچھ زیادہ ہو گا جو دس روپے فی لٹر تک ہو سکتا ہے۔
آٹھ روپے فی لٹر اضافی کی ریشنیل
گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران دنیا کو ایران اسرائیل جنگ کے دوران کروڈ آئل اور پٹرولیم پروڈکٹس کی قیمتوں میں اضافہ کے جو دیرینہ خدشات تھے وہ سب غلط نکلے۔ ایران نے جنگ کے آخری دنوں میں امریکہ کے براہ راست تین نیوکلئیر تنصیبات پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان تک کر دیا تھا تب بھی کروڈ آئیل اور پٹرولیم پروڈکٹس کی قیمتیں نہیں بڑھیں، جب ایک دن بعد ایران نے قطر میں امریکہ کے ایک بیس پر میزائلوں سے حملہ کیا تو اس وقت آئل مارکیٹ میں پٹرولیم کی قیمت بڑھنے کی بجائے گری تھی۔ گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران کروڈ آئل اور پٹرولیم پروڈکٹس کی قیمتوں میں کمی بیشی کے شمار سے پاکستان میں آئندہ پندرہ دن کے لئے پٹرول، ڈیزل کی قیمت پر اثر نہ ہونے کے برابر ہو گا۔
آج رات بارہ بجے سے پیٹرول، ڈیزل اور فرنس آئل پر 2.50 روپے فی لیٹر کاربن لیوی عائد کئے جانے کا امکان ہے۔ اگر یہ لیوی آج ہی سے عائد کی گئی تب پٹرول، ڈیزل کی قیمت کچھ بڑھے گی جو زیادہ سے زیادہ پانچ روپے فی لٹر تک ہی ہو گی۔ لیوی کے ڈھائی روپے بڑھا کا پٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے لٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
توقع ہے کہ وفاقی حکومت ایماندارانہ کیلکولیشن کرے گی اور کرنسی کی شرح تبادلہ کے فرق کا جتنا پٹرولیم امپورٹ بل پر اثر پڑا ہے، صرف اتنا ہی قیمت میں اضافہ کیا جائے گا۔
پاکستانی روپے کے مقابل ڈالر کی قدر میں اب تک 81 پیسے کا اضافہ ہوا ہے جو متوقع قیمت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ورکنگ پیپر تیار کر رہی ہے، جسے آج حکومت کو پیش کیا جائے گا۔
پرائس ایڈجسٹمنٹ کا حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے۔
بڑے پیمانہ پر پھیلی ہوئی افواہ
گزشتہ دو دن سے یہ افواہ زبان زد عام ہے کہ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں آج 30 اپریل کی رات 12 بجے بھونچال آنے والا ہے۔
تیل کی انٹرنیشنل مارکیت میں قیمت میں اتار چڑھاؤ کی ڈرامائی فریز استعمال کر کے یہ بتایا جا رہا ہے کہ آج رات پاکستان کے عوام کی خیر نہیں۔
کہانیاں جوڑنے والوں نے ایسی کہانیاں جوڑیں کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لٹر 15روپے اضافہ تو بس "نارمل" اور عین جائز دکھائی دینے لگا، سرکاری زرائع بتا رہے ہیں کہ ایسا کوئی طوفان نہیں آنے جا رہا۔
افواہ میں کیا کہا گیا
افواہ کو "رپورٹس" کی شکل دے کر شائع کرنے والوں نے کہا کہ 16 جون سے 30 جون کے درمیان ڈیزل کی اوسط قیمت 10.3 فیصد اضافے سے 87.18 ڈالر فی بیرل اور پیٹرول کی قیمت 5.8 فیصد بڑھ گئی حالیہ ایران-اسرائیل تنازعہ کی وجہ سے جس نے تیل کی سپلائی میں خلل پڑنے کے خدشات کو جنم دیا تھا۔
مزید یہ کہ حکومت نے یکم جولائی سے کاربن لیوی کے پیش نظر پیٹرول اور ڈیزل پر ڈھائی روپے فی لیٹر عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔اس حوالے سے اعلان مالی سال 2025-26 کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے کیا گیا۔
افواہ سازوں نے پاکستان میں یکم جولائی سے پیٹرول کی قیمت 15 روپے فی لٹر بڑھا ڈالی
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یکم جولائی سے پیٹرول کی قیمت میں 13.68 روپے فی لیٹر کا اضافہ متوقع ہے جس سے نئی قیمت 272.29 روپے ہو جائے گی جبکہ ڈیزل کی قیمت 18.06 روپے فی لیٹر اضافے کے ساتھ یکم جولائی سے 280.65 روپے ہو جائے گی۔
ایندھن کی قسم موجودہ قیمت متوقع اضافہ متوقع نئی قیمت جو شائع کی گئی وہ یوں تھی:
پٹرول 258.61 13.68 272.29
ڈیزل 262.59 18.06 280.65
پٹرول ڈیزل کی موجودہ قیمتیں
16 جون کو وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 80 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 95 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا۔ فی الحال، ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت 262.59 روپے فی لیٹر ہے، جب کہ پیٹرول 258.43 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔