ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعلیٰ پنجاب کے دور حکومت کی کوئی آڈٹ رپورٹ سامنے نہیں آئی : عظمیٰ بخاری

 وزیراعلیٰ پنجاب کے دور حکومت کی کوئی آڈٹ رپورٹ سامنے نہیں آئی : عظمیٰ بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک :وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دورِ حکومت کی کوئی آڈٹ رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے۔

 فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ایک تو یہ پڑھے لکھے نہیں ہیں، دوسرا کوشش بھی نہیں کرتے، اس آڈٹ رپورٹ کو کرپشن کر کے اسپین جانے والے مونس الہٰی نے شیئر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ پر بھی مالی سال 2023ء اور 2024ء لکھا ہے، یہ آڈٹ رپورٹ پرویز الہٰی کے دور کی ہے، یہ آڈٹ رپورٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے پاس اب تک نہیں پہنچی ہے، سوال وہ پوچھتے ہیں جو سر سے پاؤں تک کرپشن میں لتھڑے ہوئے ہیں۔

 عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دور کے پہلے سال میں 12.1 ارب روپے کی جعلی رسیدیں سامنے آئی تھیں، خیبرپختونخوا میں کرپشن کی لمبی کہانی ہے،

صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر مختلف اضلاع کے دورے کر رہی ہوں، پنجاب کے متعدد شہر ورلڈ بینک سے مل کر ری ویمپ ہو رہے ہیں، نشیبی علاقے جو پانی میں ڈوبتے ہیں، ٹھیک ہوں گے،ان کا کہنا تھا کہ فیصل آباد کے لیے خوشخبری ہے، میٹرو پر جولائی سے کام کر رہے ہیں، نجی ہسپتال صحت کارڈ کا بہت غلط استعمال کرتے ہیں، زچگی کا بل 3 گنا بنا دیتے ہیں،انہوں نے کہا کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے، سرگودھا میں ایک سال کے دوران کارڈیالوجی ہسپتال نے کام شروع کردیا، ایک ہزار بیڈ کا کینسر اسپتال جلد شروع ہو رہا ہے۔

 عظمیٰ بخاری کا یہ بھی کہنا تھا کہ پچھلے 5 سال کے واجبات 22  ارب مریم نواز کی حکومت نے جمع کروائے، ساہیوال ہسپتال میں آتشزدگی پر وزیراعلیٰ خود گئیں اور ذمہ داروں کو ہتھکڑیاں لگوائیں۔