ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ کا غلط رپورٹ بھجوانے پر جیل سپریڈنٹنٹ فیصل اباد ساجد بیگ پر اظہار برہمی,جیل سپریڈنٹنٹ عدالت سے معافیاں مانگتے رہے، شرمندگی کا اظہار بھی کیا ,عدالت نے جیل سپرنٹینڈنٹ کی معافی کی استدعا منظور کرلی,عدالت نے مجرمان کی سزا کے خلاف اپیلوں پر آئندہ سماعت پر مزید دلائل طلب کر لئے.
جسٹس محمد طارق ندیم نے مجرمان ظفر اقبال سمیت دو مجرمان کی اپیلوں پر سماعت کی ,سپرنٹینڈنٹ جیل سنٹرل جیل فیصل آباد ساجد بیگ عدالت کے روبرو پیش ہوئے , جسٹس محمد طارق ندیم نے جیل سپرنٹینڈنٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا مجرمان کے جیل میں گزارے گئے عرصہ کی رپورٹ طلب کی تھی ، پہلے رپورٹ منگوائی ، وہ غلط دوبارہ منگوائی وہ بھی ٹھیک نہیں تھی ، ملزم کے سزا سے قبل جیل میں گزارے گئے وقت کی رپورٹ درست نہیں دی گئی ، جیل سپرنٹینڈنٹ نے جواب دیا کہ سوری سر ، رپورٹ بھجوانے والے ذمہ دار جیل افسر کے خلاف کاروائی کے لئے نوٹس جاری کیا ہے، جسٹس محمد طارق ندیم نے جیل سپرنٹینڈنٹ سے استفسار کیا۔ کہ کیا وہ نوٹس آپ کے پاس موجود ہے، جیل سپرنٹینڈنٹ فیصل آباد نے جواب دیا سر وہ نوٹس تو میرے پاس موجود نہیں ، فاضل جج نے جیل سپرنٹینڈنٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا پھر آپ کے آئی جی جیل خانہ جات کو طلب کرکے ان سے پوچھ لیتے ہیں ، جیل سپرنٹینڈنٹ نے جواب دیاسر شرمندہ ہوں ، معافی چاہتا ہوں ، جسٹس طارق ندیم نے جیل سپریڈنٹ سنٹرل جیل فیصل آباد ساجد بیگ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا شرمندگی کی بجائے کام ہی کرکے لے آیا کریں ، وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ لڑائی جھگڑے کے مقدمے میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے تین ماہ سزا سنائی ، سیشن جج نے سزا بڑھا کر تین سال کردی ، دونوں مجرمان کا ٹرائل کے دوران جیل میں گزرا گیا وقت شامل نہیں کیا گیا ، جسٹس محمد طارق ندیم نے ریماکس دئیے ظفر اقبال کی دو سال دو دن ، امجد علی دو سال پندرہ دن بقایا ہے، یہ بریت والا کیس نہیں ،آئندہ ہفتے سے موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران ہائیکورٹ کے بنچ پر جارہا ہوں ، آئندہ جو بھی دستیاب بنچ ہوگا ، وہ کیس سن لے گا.