سٹی 42: محکمہ خوراک سندھ نے گندم خردبرد کیس میں ملوث 8 افسران اور اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کرتے ہوئے ان سے مجموعی طور پر 5 ارب 12 کروڑ 84 لاکھ روپے سے زائد کی ریکوری کا حکم دے دیا۔ برطرفی کے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیے گئے۔
محکمہ خوراک کے مطابق خیرپور کے فوڈ انسپکٹر ظہیر عباس شر کو ملازمت سے برطرف کرتے ہوئے ان سے 2 ارب 8 کروڑ 82 لاکھ روپے سے زائد کی وصولی کا حکم دیا گیا ہے۔
سانگھڑ کے فوڈ انسپکٹر محمد عباس میمن کو بھی برطرف کر دیا گیا، جبکہ ان پر ایک ارب 5 کروڑ 56 لاکھ روپے سے زائد کی رقم واجب الادا قرار دی گئی ہے۔
اسی طرح شکارپور کے فوڈ سپروائزر محمد مٹھل مگسی کو ملازمت سے برطرف کرتے ہوئے ان سے 84 کروڑ 91 لاکھ روپے سے زائد کی ریکوری کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ دادو کے فوڈ سپروائزر محمد حسن دل کو بھی برطرف کر کے ان سے 70 کروڑ 4 لاکھ روپے سے زائد کی وصولی کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ خوراک نے فوڈ انسپکٹر عمران علی مگسی، فوڈ سپروائزر قربان علی مگسی، محمد منور آرائیں اور غلام مصطفیٰ میرانی کو بھی ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق گندم خردبرد میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی جاری ہے اور سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی وصولی کے لیے قانونی عمل بھی آگے بڑھایا جائے گا۔