بلڈ کینسر کے مریض خوار، حکومت نے مفت علاج کی سہولت چھین لی

بلڈ کینسر کے مریض خوار، حکومت نے مفت علاج کی سہولت چھین لی

( زاہد چودھری ) پنجاب حکومت نے بلڈ کینسر کے مریضوں کو علاج کیلئے فنڈز کا اجرا مکمل بند کردیا، فیصلے سے جاں لیوا مرض میں مبتلا 5 ہزار سے مریضوں کی دنیا اندھیر ہوگئی، سی ایم ایل پراجیکٹ کے سوا ارب کے بقایا جات کی ادائیگی بھی التوا سے دوچار، پراجیکٹ بند ہونے سے بلڈ کینسر کے نئے مریضوں کی رجسٹریشن بھی بند ہے۔

سابقہ حکومت کی جانب سے نوارٹس فارما کے اشتراک سے بلڈ کینسر کے مریضوں کو مفت علاج کی فراہمی کا شروع کیا گیا پراجیکٹ موجودہ حکومت نے بند کر دیا ہے، بلڈ کینسر کے مفت علاج کے پراجیکٹ کیلئے بجٹ میں فنڈز مختص نہیں کئے اور گزشتہ مالی سال میں سوا ارب روپے کے بقایا جات بھی التوا سے دوچار ہیں۔ اس سنگین صورتحال کی وجہ سے سی ایم ایل پراجیکٹ کے تحت رجسٹرڈ بلڈ کینسر کے پانچ ہزار سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ تعطل سے دوچار ہوگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق نوارٹس فارما نے فنڈز نہ ملنے پر ادویات کی فراہمی بند کر دی ہے جس سے خون کے سرطان میں مبتلا مریضوں کیلئے لاکھوں روپے کی ادویات کا خرچ برداشت کرنا ممکن نہیں رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق دیگر تینوں صوبوں میں سی ایم ایل پراجیکٹ بدستور چل رہا ہے اور بلڈ کینسر کے مریضوں کو مفت علاج کی سہولت دی جارہی ہے تاہم پنجاب میں حکومت نے یہ سہولت یکسر ختم کر دی ہے جس سے ہزاروں مریضوں کی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

بلڈ کینسر کے علاج کا پراجیکٹ بند ہونے سے لاہور سمیت پنجاب بھر میں بلڈ کینسر کے نئے مریضوں کی رجسٹریشن بھی بند ہوگئی ہے جس سے مریض علاج کی سہولت نہ ملنے پر دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔