حکومت کا بھرتیوں سے پابندی اٹھانے کے فیصلے پر یوٹرن

(قیصرکھوکھر)خالی خزانہ،نیا بہانہ،صرف ٹیکنیکل آسامیاں پُر کرنے کا فیصلہ کیاگیا،خالی سیٹوں کی تفصیلات طلب کرلیں،حتمی منظوری صوبائی کابینہ دے گی ۔ حکومتی فیصلے سے ہزاروں نوکریوں کی خوشخبری پر اُوس پڑ گئی۔ بے روزگاروں کے خواب بکھر گئے، آس ٹو ٹ گئی ۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب میں پانچ محکموں کے سیکرٹریوں کی آسامیاں تاحال خالی پڑیں ہیں، پنجاب حکومت تاحال خالی آسامیاں پُر تعیناتیاں نہ کرسکی،تعیناتیاں نہ ہونے سے انتظامی امور بُری طرح متاثر ہونے لگے۔پنجاب میں صوبے کے پانچ اہم محکمے سیکرٹریوں کے بغیر چل رہےہیں۔

ذراءئع ابلاغ کے مطابق پنجاب میں سیکرٹری لٹریسی، سیکرٹری اوقاف، سیکرٹری سکول ایجوکیشن،سیکرٹری اطلاعات اور سیکرٹری خزانہ کی آسامیاں کئی ماہ سے خالی ہیں۔ مذکورہ خالی آسامیو ں پر اضافی چارج کی بنیاد پر کام چلایا جار ہاہے۔ صوبے میں سیکرٹری خزانہ کی آسامی اہم ترین شمارہوتی ہے۔ پنجاب حکومت نے تاحال مذکورہ محکموں میں سیکرٹریوں کی تعیناتیاں نہیں کیں۔

وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری نےمذکورہ پانچوں محکموں کی آسامیوں پر تعیناتی نہیں کی۔ مذکورہ سیکرٹریوں کی آسامیاں خالی ہونے سے محکمانہ امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ جہاں دفتری امور کی انجام دہی میں ملازمین کو مشکلات ہیں، وہیں سائلین بھی پریشان ہیں۔

واضح رہے کہ قبل ازیں اطلاعات موصول ہوئیں تھیں کہ  پنجاب حکومت نے نئی بھرتیوں کے عمل کو آئندہ دو سال کے روک دیا ۔ محکمہ صحت اور پولیس میں پہلے سے منظور شدہ نشستوں پر ہی بھرتیاں ہوں گی۔ محکمہ سکول ایجوکیشن میں اب نئی بھرتیاں نہیں کی جائیں گی۔ حکام کا کہناتھا کہ پنجاب میں اساتذہ کی ستر ہزار سے زائد نشستیں خالی ہیں۔ محکمہ سکول ایجوکیشن کے مطابق میانوالی اور ڈی جی خان میں پچھلے مالی سال میں منظور ہونے والی خالی نشتوں پر صرف بھرتی ہوگی۔بجٹ نہ ہونے کے باعث نئے مالی سال میں اب نئی بھرتیوں پر پابندی عائد کی گئی۔