سٹی42: پنجاب میں دریاؤں کی شدید طغیانی کے باعث سیلابی صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگرچہ لاہور میں دریائے راوی کی سطح میں کمی آنے کے بعد سیلاب کا فوری خطرہ ٹل گیا ہے تاہم قصور، ملتان، سیالکوٹ، راجن پور، پاکپتن اور دیگر جنوبی اضلاع میں صورتحال اب بھی غیر معمولی اور خطرناک ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق بھارت میں بند ٹوٹنے کے باعث ستلج کا پانی قصور کی طرف بڑھا، جہاں 1955 کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا سیلابی ریلا ریکارڈ کیا گیا تاہم اب بہاؤ میں کمی کا رجحان ہے۔دریائے ستلج کے گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی کا رجحان تو ہے تاہم بہاؤ اب بھی 345,366 کیوسک ہے جو انتہائی اونچے درجے کی سیلابی کیفیت کی نشاندہی کرتا ہے۔
ملتان اور اطراف کے علاقوں میں دریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ کے مقام پر بریچنگ پوائنٹس کی نشاندہی مکمل کر لی گئی ہے، جہاں شدید سیلاب کی صورت میں بند توڑنے کا فیصلہ متوقع ہے۔138 بستیوں سے 3 لاکھ سے زائد افراد کے انخلا کا ہدف مقرر, صدر اور جلالپور پیروالہ کی 64 بستیاں خطرے میں, متاثرہ دیہات سے کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقلی جاری ہے۔ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں جہاں متاثرین کو خوراک، پانی اور رہائش فراہم کی جا رہی ہے ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہری فوری طور پر ریلیف کیمپوں میں منتقل ہوں اور گھروں کو بند کر کے محفوظ مقامات پر چلے جائیں۔ اس کے ساتھ جانوروں کی منتقلی بھی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
دریائے چناب کے سیلابی ریلے کے بعد وزیر آباد اور حافظ آباد کے علاقے متاثر ہیں، حافظ آباد کے چالیس دیہات اب بھی ڈوبے ہوئے ہیں۔ چشتیاں کے نواحی علاقوں میں ستلج کی طغیانی سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ، بند ٹوٹنے سے پانی گھروں اور آبادیوں میں داخل ہوگیا، 50 کے قریب بستیاں شدید متاثر ہوئی ہیں جس کے باعث علاقہ مکینوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا جارہا ہے۔پاکپتن میں اونچے درجے کے آبی ریلے نے تباہی مچادی جس کے باعث متعدد حفاظتی بند ٹوٹ گئے جبکہ کئی بستیاں زیرِ آب آگئیں، اہم سڑک کے ڈوبنے سے کئی آبادیوں کا زمینی راستہ منقطع ہوگیا ہے جس سے علاقہ مکینوں کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا۔شاہدرہ، جسڑ پر پانی کی سطح کم لیکن ہیڈ بلوکی پر بہاؤ 1 لاکھ 94 ہزار 800 کیوسک تک جا پہنچا ہے۔ سیالکوٹ، پسرور، بجوات میں دیہات کا رابطہ منقطع اور ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق 1769 موضع جات زیرِ آب آ چکے ہیں جس سے 15 لاکھ کے قریب افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور اب تک 28 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ملتان میں دریائے چناب میں پانی کی سطح میں اضافہ کے بعد ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ کے بریچنگ پوائنٹس کی نشاندہی مکمل ہوچکی ہے۔ 3 لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی جاری ہے، 138 بستیوں سے انخلا کا ہدف مقرر، 64 بستیاں (صدر و جلالپور پیروالا) براہِ راست خطرے میں ہیں۔ریلیف کیمپس میں خوراک، پانی، رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
فیصل آباد (تاندلیانوالہ)، راجن پور، چشتیاں، بہاولپور، اوستہ محمد اور جعفر آباد میں ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔ سیالکوٹ کے 85 دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔ حافظ آباد کے 40 دیہات زیرِ آب، ظفروال میں لہڑی روٹ شگاف پڑنے سے منقطع اور بلوچستان کے اضلاع (جعفر آباد، صحبت پور) میں بھی سیلاب کا خدشہ ہے۔
بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے باعث دریائے ستلج میں تلوار پوسٹ کے قریبی دیہات خالی کرائے جا رہے ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر سے پانی کا ریلا چکوٹھی کے مقام پر آزاد کشمیر میں داخل ہو رہا ہے۔لاہور اور اس کے نواحی علاقوں میں دریائے راوی میں شدید طغیانی برقرار ہے۔ شاہدرہ، جسڑ اور ہیڈ بلوکی کے مقامات پر پانی کی سطح میں اتار چڑھاؤ جاری ہے، تاہم سیلابی صورتحال تاحال خطرناک ہے۔لاہور میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 90 ہزار کیوسک سے کم ہو کر 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک پر آ گیا ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں بھی شدید سیلابی صورتحال کا خطرہ ہے، 3 سے 4 ستمبر کے دوران 9 سے ساڑھے 9 لاکھ کیوسک تک کے ریلے پنجند ہیڈ ورکس سے گزریں گے۔بند توڑ کے بہاؤ کا رخ بدلنے کی صورت میں 8 لاکھ 25 ہزار سے 9 لاکھ کیوسک کے ریلے متوقع ہیں، گڈو بیراج پر 5 سے 6 ستمبر کے دوران 8 لاکھ سے11 لاکھ کیوسک بہاؤ متوقع ہے۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ کے نشیبی علاقوں میں شدید اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے، بالائی علاقوں میں موجود شدید بہاؤ نشیبی علاقوں میں اونچے درجے کی سیلابی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔
پنجاب کے بعد صوبہ بلوچستان بھی سیلاب کی زد میں آنے کا امکان ظاہر کر دیا گیا ہے۔وزیر آبپاشی بلوچستان صادق عمرانی نے کہا ہے کہ 2 ستمبر کو سیلاب دریائے سندھ سے بلوچستان میں داخل ہونے کا امکان بتایا گیا ہے، جعفر آباد، روجھان، اوستہ محمد، صحبت پور کے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔صادق عمرانی نے آگاہ کیا کہ سندھ حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے، ممکنہ سیلاب کے پیش نظر کیمپ آفس نصیرآباد میں قائم کر دیا گیا ہے۔