کس محکمے کا کونسا کنٹرولڈ ایریا، تنازعات حل کرنے کا فیصلہ

کس محکمے کا کونسا کنٹرولڈ ایریا، تنازعات حل کرنے کا فیصلہ

(راؤ دلشاد حسین) کس محکمے کا کونسا کنٹرولڈ ایریا ہوگا؟علاقوں سے متعلق تنازعات حل کرنے کا فیصلہ، میٹروپولیٹن کارپوریشن نے کنٹرولڈ ایریاز سے متعلق ورکنگ پیپر تیار کرلیا، سٹی 42 نے ورکنگ پیپر کی کاپی حاصل کرلی۔

میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ایل ڈی اے کے کنٹرولڈ ایریا سے متعلق تیار کردہ ورکنگ پیپر کے مطابق پنجاب حکومت نے کنٹرولڈ ایریا کی 10 روز میں بریفنگ مانگ لی جبکہ مشیر وزیر اعلیٰ ڈاکٹر سلمان شاہ کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔

شہر کی 23 ہاؤسنگ سکیموں کا کنٹرول ایل ڈی اے کے پاس ہے جبکہ سکیموں کی شاہراہوں کی تعمیرو بحالی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ذمہ داری ہے، سڑکوں کی تعمیر و بحالی کیلئے کروڑوں روپے کے فنڈز ایل ڈی اے کے پاس آتے ہیں لیکن ترقیاتی فنڈز میٹروپولیٹن کارپوریشن کے بجٹ سے خرچ ہو رہے ہیں۔

ایل ڈی کنٹرولڈ ایریا کی 23سکیموں میں گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ سکیم رائیونڈ روڈ، میڈیکل ٹاؤن جاتی امراء، سوئی نادرن گیس موضع اصل، آرمی ٹرسٹ ویلفئیر رائیونڈ ، چنار کورٹس جاتی امرا، بیکن ہاؤس موضع تارو گلی، نیو لاہور سٹی، این ایف سی فیز ٹو، او پی ایف، شادمان ڈویلپمنٹ سکیم،  اپر مال سکیم، سمن آباد سکیم شامل ہیں۔

اس کے علاوہ گلشن راوی سکیم ، گرین بادامی باغ سکیم ، نیشنل بنک سمن آباد سکیم، گلبرگ سکیم، راوی پارک سکیم، ٹمبر مارکیٹ سکیم، شادباغ، چائنہ سکیم، شاہ عالم سکیم اور چوبرجی سکیم شامل ہیں۔

 ہاؤسنگ سکیموں کی سڑکوں کی تعمیر و بحالی میں پیچ ورک، سٹریٹ لائٹس، لائن مارکنگ، فٹ پاتھ اور رنگ روغن کے مسائل درپیش ہیں، اس حوالے سے کمشنر لاہور و ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن آصف بلال لودھی کا کہنا ہے کہ ادارے ون پیج پر آنے کو تیار ہیں۔

کارپوریشن کی جانب سے رواں مالی سال میں سڑکوں کی تعمیرو بحالی کیلئے کروڑوں روپے رکھے گئے ہیں جس کے استعمال کے طریقہ کار کوجلد وضع کرنے کی امید کا اظہار کیاگیا۔