سٹی42: یمن کے حوثی گروپ نے اسرائیل کو صنعا ائیرپورٹ پر ایک اور حملے کے بعد اس حملے کے بدلے میں "گرم موسم گرما" سکی دھمکی دی ہے جب کہ حوثی ملیشیا کے سرپرست ایران نے صنعا ائیرپورٹ پر اسرائیلی ائیرفورس کی حالیہ بمباری کی مذمت کی ہے۔
یمنی ائیرلائن کا آخری جہاز بھی تباہ
حوثیوں کے زیرانتظام المسیرہ ٹی وی نے کہا کہ چار اسرائیلی فضائی حملوں میں ہوائی اڈے کے رن وے اور یمنی ایئرویز کے ایک طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔کل اسرائیلی ائیرفورس کے حملے کے بعد انٹرنیشنل میڈیا نے بتایا کہ صنعا ائیرپورٹ کے ڈائریکٹر کے مطابق حملے میں یمنی ائیرلائن کا آخری طیارہ بھی تباہ ہوگیا۔
اسرائیلی فضائیہ نے یمن کے صنعا انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر حوثی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ صنعا انترنیشنل ائیرپورٹ دوہرے مقاصد کے لئے استعمال ہوتا ہے، اس ائیرپورٹ سے متصل ائیر سٹرپ کو حوثی ملیشیا اپنے جنگی مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہے اور یہی ایریا اس کا نشانہ ہوتا ہے۔
آئندہ بھی حملے ہوتے رہیں گے، اسرائیل کا اعلان
اسرائیلی وزارت دفاع نے اس حالیہ حملے کے بعد کہا، یہ حملے ایک واضح پیغام ہیں کہ جو بھی اسرائیل پر حملہ کرے گا اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یمن کی بندرگاہیں اور ائیرپورٹ سمیت دیگر اہم انفرااسٹرکچر آئندہ بھی حملوں کا نشانہ بنتے رہیں گے۔ کل کی ائیرسٹرائیکس حوثی ملیشیا کے کنٹرول والے علاقوں پر دسواں حملہ تھیں۔
پچھلے اہداف میں سیمنٹ فیکٹریاں، پاور سٹیشنز اور بندرگاہیں شامل تھیں، بعض مقامات کو کئی مواقع پر نشانہ بنایا گیا۔
نیتن یاہو "صیہونیوں" کو ہمارے میزائلوں سے نہیں بچا سکتے، حوثی لیڈر
حوثی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ مہدی المشاط، جنہوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، نے حوثی سے وابستہ صبا نیوز ایجنسی کو بتایا، ’’یہ مجرمانہ جارحیت ہمیں مزید دھکیل دے گی۔‘‘
مہدی المشاط نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے کہا کہ آپ صہیونیوں کو ہمارے میزائلوں سے نہیں بچا سکتے۔
المشاط نے اسرائیل کے بین گوریون ہوائی اڈے پر پروازیں چلانے والی ایئر لائنز کو خبردار کیا کہ انہیں کسی بھی وقت خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
حوثیوں کے تل ابیب کے بن گوریوں انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر حوثیوں کے میزائل حملوں کے باعث کئی انترنیشنل ائیرلائنز نے تل ابیب کیلئے فلائٹس معطل کر رکھی ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ تل ابیب ائیرپورٹ پر میزائلوں کے بار بار حملوں کے جواب میں اسرائیل بار بار صنعا ائیرپورٹ اور حوثیوں کے زیر استعمال بندرگاہوں پر ائیر سٹرائیکس کررہا ہے۔
4 مئی کو ایک حوثی بیلسٹک میزائل نے تل ابیب کے بن گوریون ائیرپورٹ کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد سے کئی کمپنیوں نے اسرائیل کے لیے اپنی فلائٹس معطل کر دیں جو اب تک بحال نہیں ہوئیں۔
Ryanair ائیرلائن نے حوثیوں کے میزائل حملوں سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے سبب جولائی کے آخر تک تل ابیب کے لیے پروازوں کی معطلی میں توسیع کردی ہے۔
حوثی لیڈر لمشاط نے دھمکی دی کہ یمنی میزائل اپنے اہداف تک پہنچ سکتے ہیں اور پناہ گاہیں اسرائیلیوں کی حفاظت کو یقینی نہیں بنائیں گی۔ انہوں نے صنعا کے ہوائی اڈے پر اسرائیلی حملے کو حوثیوں کے حملوں سے اسرائیلی مایوسی کی علامت قرار دیا۔ "دشمن کی بمباری ثابت کرتی ہے کہ اسے ہمارے حملوں سے نقصان پہنچ رہا ہے۔ صہیونیوں کو سخت گرمی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔"
حوثیوں کے اسرائیل پر مئی میں 22 حملے
حوثیوں نے منگل کے روز اعلان کیا کہ انہوں نے مئی کے آغاز سے اسرائیل کو نشانہ بنانے کے لیے 22 فوجی کارروائیاں کی ہیں اور اسے تل ابیب کے لیے "سب سے زیادہ تکلیف دہ مہینہ" قرار دیا ہے، جیسا کہ المسیرہ کی طرف سے شائع ہونے والی ایک ویڈیو میں رپورٹ کیا گیا ہے۔
نومبر 2023 سے، حوثیوں نے غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت میں بحیرہ احمر، خلیج عدن اور بحیرہ عرب میں تجارتی جہاز رانی کو بھی نشانہ بنایا ہے.
ایران کا ردعمل
ایران نے صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اسرائیل کے حالیہ فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے یمن اور خطے کے مسلمان عوام کے خلاف بربریت اور دشمنی کی علامت قرار دیا ہے۔
بدھ کو دیر گئے ایک بیان میں،ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ فوجی حملہ کا مقصد یمنی عازمین کی سعودی عرب منتقلی میں رکاوٹ ڈالنا تھا، یہ ایک سنگین جرم تھا۔
اسمعیل بقائی نے بین الاقوامی تنظیموں بالخصوص انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) سے فوری اور سنجیدگی کے ساتھ صورتحال سے نمٹنے کا مطالبہ کیا۔
ترجمان نے الزام لگایا کہ کہ یمن کے اقتصادی انفراسٹرکچر اور بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور خوراک کے ذخیرہ کرنے کی سہولیات پر اسرائیلی حکومت کے جاری حملے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی مثال ہیں۔
یمن کے سب سے بڑے ہوائی اڈے نے پچھلے حملوں کے بعد ابھی پچھلے ہفتے دوبارہ کام شروع کیا تھا اور یہ بنیادی طور پر اقوام متحدہ کے طیاروں اور یمن کے واحد بقیہ سویلین طیارے کو فلائٹس کی سہولت فراہم کر رہا تھا، اور اس سے پہلے کے حملے میں تین دیگر طیاروں کا صفایا کر دیا گیا تھا۔