رائو دلشاد:وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ایندھن کے استعمال میں کمی اور بچت سے متعلق حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والی صورتحال کے اثرات کو کم سے کم رکھا جائے۔
ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی سے متعلق حکومت نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ موجودہ حالات کے باوجود سپلائی برقرار رکھی گئی ہے تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت نے تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو روکنے کے لیے 125 ارب روپے کا بوجھ خود برداشت کیا، جس کے لیے ترقیاتی اخراجات میں کمی اور دیگر وسائل استعمال کیے گئے۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ایندھن کے محتاط استعمال کو یقینی بنائیں، غیر ضروری سفر محدود کریں اور دفتری امور میں آن لائن ذرائع کو ترجیح دیں تاکہ توانائی کی بچت ممکن ہو سکے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ موٹرسائیکل اور رکشہ مالکان کے لیے رجسٹریشن کے عمل کو مزید آسان بنایا جائے، جس سے نہ صرف ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جا سکے گا بلکہ مستقبل میں حکومتی سہولیات کی فراہمی بھی بہتر ہوگی۔ موٹر سائیکل اور رکشہ چلانے والوں کے لیے متوقع فیول سپورٹ پروگرام پر بھی بات ہوئی، جس کے لیے تیار کی گئی موبائل ایپ کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کیا گیا۔
مزید ہدایت کی گئی کہ صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے حکام کے ساتھ رابطوں کو تیز کیا جائے تاکہ فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد ممکن ہو سکے۔
اجلاس میں ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری سے متعلق اقدامات پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جہاں حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی طلب و رسد پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پورے سپلائی سسٹم کی نگرانی کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل ڈیش بورڈ تیار کر لیا گیا ہے، جس کے ذریعے ایندھن کی ترسیل اور دستیابی کو مؤثر انداز میں مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ اپریل کے مہینے کے لیے پٹرول کی درآمد کے انتظامات پہلے ہی مکمل کیے جا چکے ہیں۔
حکام کے مطابق دیگر کئی ممالک کے برعکس پاکستان میں ایندھن کی قلت یا طویل قطاروں جیسی صورتحال سامنے نہیں آئی، جو حکومتی حکمت عملی اور بروقت فیصلوں کی عکاسی کرتی ہے۔ بریفنگ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ فوری اقدامات کے باعث ملک میں تیل کی مجموعی صورتحال کو بہتر انداز میں سنبھالا گیا ہے۔
ویڈیو لنک اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار ، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، عطاء اللہ تارڑ ، ڈاکٹر مصدق ملک ، احسن اقبال ، شزا فاطمہ خواجہ، اویس خان لغاری، معاون خصوصی طارق باجوہ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔