ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مبینہ پولیس مقابلے ، ایڈیشنل آئی جی ، سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ پیش، چیف جسٹس ہائیکورٹ مطمئن ، درخواست نمٹادی

مبینہ پولیس مقابلے ، ایڈیشنل آئی جی ، سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ پیش، چیف جسٹس ہائیکورٹ مطمئن ، درخواست نمٹادی
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : سی سی ڈی کے حراساں کرنے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت , ایڈیشنل آئی جی ، سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ چیف جسٹس ہائیکورٹ کے روبرو پیش ،عدالت نے سی سی ڈی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے درخواست نمٹادی.

چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے شہری محمد رفیق کی درخواست پر سماعت کی , ایڈیشنل آئی جی ، سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ،، پنجاب حکومت کے لاء افسر کے ہمراہ پیش ہوئے ،اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل وقاص عمر نے سی سی ڈی کی جانب سے رپورٹ پیش کی ، چیف جسٹس ہائیکورٹ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہتے ہیں چار پانچ بندے ایک ہی نام کی ہیں ، بتائیں درخواست گزار کا کون سا علاقہ ہے؟ ، وکیل نے جواب دیا چک بھروانہ ، ضلع جھنگ کا علاقہ ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اس نے انکوائری جوائن کی تھی، ؟ وکیل نے جواب دیا پولیس والوں نے بلایا تھا ، درخواست گزار کہہ رہا ہے یہ پولیس سٹیشن گوجرہ گیا بھی تھا ، چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس کا موقف لیا گیا ، اس نے انکوائری جوائن نہیں کی ،یہ آؤٹ آف سٹی تھا ،، انکوائری جوائن کرنی تھی تو درست رپورٹ آنا تھی ، اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل نے جواب دیا پولیس نے درخواست گزار کو انکوائری کے لئے کال کی تھی ، یہ نہیں آئے تھے، درخواست گزار کا وکیل عدالت میں تسلی بخش جواب نہ دے سکا ، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست گزار وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا اگر سی ڈی آر کال کا ریکارڈ منگوا لیں تو پتہ چل جائے گا ، عدالت میں غلط بیانی نہ کریں ، چیف جسٹس نے ایڈیشنل آئی جی ، سی سی ڈی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا اگر درخواست گزار مقدمہ میں ملوث نہیں ہے تو اسے حراساں نہ کیا جائے.

 

Ansa Awais

Content Writer