ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نوکر جوڑے نے 5 سال مالک اور بیٹی کو یرغمال بنایا، دل دہلا دینے والا واقعہ

نوکر جوڑے نے 5 سال مالک اور بیٹی کو یرغمال بنایا، دل دہلا دینے والا واقعہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بھارت کے صوبہ اتر پردیش کے ضلع مہوبہ سے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ منظرعام پر آیا ہے۔ لالچی نوکر جوڑے کے ظلم نے انسانیت کی تمام حدیں پار کر دیں۔ ریٹائرڈ ریلوے ملازم اور ان کی 27 سالہ ذہنی معذور بیٹی کو ان کے ہی گھر میں پانچ سال تک یرغمال بناکر رکھا۔بوڑھا آدمی بھوک اور تشدد سے مر گیا، جب کہ بیٹی محض ڈھانچہ بن کر رہ گئی۔

بھارتی کی بڑی اردو  ویب نیوز کے مطابق اتر پردیش کے مہوبا میں ایک ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ جائیداد کے لالچ میں آکر، ایک نوکر جوڑے نے ریلوے کے ایک ریٹائرڈ ملازم اور اس کی ذہنی طور پر معذور بیٹی کو پانچ سال تک قید میں رکھا اور انہیں آہستہ آہستہ مرنے پر مجبور کیا۔ بوڑھا آدمی بھوک اور تشدد سے مر گیا، جب کہ بیٹی محض ڈھانچہ بن کر رہ گئی۔ جس نے بھی اس المناک منظر کو دیکھا وہ خوفزدہ ہو گیا۔مہوبہ شہر  کے کوتوالی کے علاقے ہند ٹائر گلی میں نوکر جوڑے کے ظلم نے انسانیت کی تمام حدیں پار کر دیں۔ ریلوے سے 70 سالہ ریٹائرڈ سینئر کلرک اوم پرکاش سنگھ راٹھور اور ان کی 27 سالہ ذہنی طور پر معذور بیٹی رشمی کو ان کے ہی گھر میں یرغمال بنایا گیا۔مناسب خوراک اور طبی دیکھ بھال سے محروم  اوم پرکاش کی دردناک موت ہوگئی۔ متوفی کے بھائی امر سنگھ نے بتایا کہ 2016 میں انکی بیوی کی موت کے بعد اوم پرکاش اپنی بیٹی کے ساتھ الگ گھر میں چلے گئے۔ وہاں اس نے چرکھری کے رہنے والے رام پرکاش کشواہا اور اس کی بیوی رام دیوی کو ان کی دیکھ بھال کے لیے رکھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ  نوکر جوڑے پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے پورے گھر پر قبضہ کر لیا اور باپ بیٹی کو نیچے کے کمروں میں بند کر دیا۔ اوپر عیش و آرام میں رہتے ہوئے، جوڑے نے بزرگ جوڑے اور ان کی بیٹی کو بھوکا چھوڑ دیا۔ گھر والے جب بھی ملنے آتے تو نوکر ان سے منہ پھیر لیتا، کبھی یہ کہتا کہ مالک گھر پر نہیں ہے، یا کبھی کہتا کہ وہ کسی سے ملنا نہیں چاہتے۔پیر کو جب اوم پرکاش کی موت کی خبر گھر والوں کو ملی اور گھر پہنچے تو وہ منظر دیکھ کر خوفزدہ ہوگئے۔ اوم پرکاش کا جسم مکمل طور پر سوکھ چکا تھا اور ان کی بیٹی رشمی ایک اندھیرے کمرے میں برہنہ پائی گئی۔ فاقہ کشی کی وجہ سے 26 سالہ خاتون 80 سالہ بوڑھی نظر آرہی تھی ۔ اس کے جسم پر گوشت کا نام و نشان نہیں تھا، صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا، جس میں صرف سانسیں چل رہی تھیں ۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ نوکر نے مکان اور بینک بیلنس کے لالچ میں اس حملے کی منصوبہ بندی کی۔خاندان کے رکن پشپا سنگھ راٹھور نے بتایا کہ اسپتال کے ڈاکٹروں نے اوم پرکاش کو مردہ قرار دے دیا۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ تمام پڑوسی ریلوے ملازم کی حالت زار سے حیران ہیں، جو کبھی سوٹ اور ٹائی میں عزت کی زندگی گزارتے تھے ۔ خاندان  والوں قصورواروں کو سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کر رہا ہے۔