کلیم اختر:سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے آڈٹ رپورٹس میں شفافیت بڑھانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھا لیا ہے۔ اس سلسلے میں آڈیٹرز رپورٹنگ قوانین میں باقاعدہ ترمیم کر دی گئی ہے۔
ایس ای سی پی کے مطابق اب آڈیٹرز کو آڈٹ رپورٹ کے ساتھ یونیک آئی ڈی نمبر دینا لازمی ہوگا۔ یہ یونیک آئی ڈی نمبر انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی اے پی) یا انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی ایم اے پاکستان) کے پورٹل سے حاصل کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق یہ ترمیم کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت آڈیٹرز ریگولیشنز 2018 میں کی گئی ہے۔ نئے نظام کے نفاذ سے عوام اور سرمایہ کاروں کو کمپنیوں کے مالی حسابات پر زیادہ اعتماد حاصل ہوگا جبکہ کاروباری اور مالی نظام میں شفافیت اور جوابدہی میں بھی خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔
ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ نیا قانون کمپنیوں کے آڈٹ سسٹم کو زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد بنانے میں مدد دے گا۔ ترمیم کا بنیادی مقصد آڈٹ رپورٹس میں شفافیت کو یقینی بنانا اور جعلسازی کی روک تھام کو ممکن بنانا ہے۔