شادی کیلئے لڑکے اور لڑکی کی عمر کی حد کا تعین غیر اسلامی نہیں، وفاقی شرعی عدالت 

Federal Shariat Court Islamabad
کیپشن: Federal Shariat Court
سورس: Google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: وفاقی شرعی عدالت نے شادی کیلئے عمر  کی حد مقرر کرنے کیخلاف درخواست خارج کر دی۔

تفصیلات کے مطابق چائلڈ میرج ایکٹ 1929 کے تحت شادی کیلئے عمر کی حد مقرر کرنے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت نوز مسکانزئی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت وفاقی شرعی عدالت نے قرار دیا کہ چائلڈ میرج ایکٹ 1929 میں شادی کیلئے عمر کی حد مقرر کرنے کی شق غیر اسلامی نہیں۔

پنجاب میں 1929میں لڑکیوں کی شادی کے لیے کم از کم عمر 16سال مقرر کی گئی جسے چائلڈ میرج ریسرینٹ ایکٹ 1929 کہاجاتاہے۔ انگریز دور 1929 میں لڑکیوں کے لیےشادی کی عمر کم از کم 16 سال مقرر کی گئی تھی اس کے بعد  1961 میں ایوب دور کے دوران بھی اسمبلی میں اس پر قانون سازی ہوئی اس میں بھی کم از کم سولہ سال عمر کی حد برقراررکھی گئی مگر اس پر بھی عمل نہیں ہوا۔