علی رامے: پنجاب حکومت نے صوبے میں ہاؤسنگ سوسائٹیز مینجمنٹ سسٹم پر سختی سے عملدرآمد کرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں اور نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو واضح ہدایات جاری کر دی ہیں۔
حکومتی احکامات کے مطابق نادرا بائیومیٹرک ویری فکیشن اور ای رجسٹری کے بغیر کسی قسم کی فائل ٹرانسفر کی اجازت نہیں ہوگی۔
حکام کے مطابق متعدد نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی جانب سے اب تک HSMS پر مطلوبہ عملدرآمد نہ ہونے کا سخت نوٹس لیا گیا ہے، جبکہ ڈی جی ہاؤسنگ اور دیگر ریگولیٹری اتھارٹیز کو غیرقانونی ٹرانسفرز، جعلی فائلوں اور ڈبل بیچنگ کی روک تھام کیلئے سخت مانیٹرنگ کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
حکومت نے تمام ہاؤسنگ سوسائٹیز کیلئے ڈیجیٹل لینڈ ٹرانسفر رجسٹری کو لازمی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ تمام نجی سوسائٹیز کو فوری طور پر HSMS پر مکمل شفٹ ہونے کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔
مزید برآں، حکومت نے پارسل سرٹیفکیٹ کو ٹائٹل ڈاکومنٹ کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے عدالتی مقدمات اور ملکیتی تنازعات میں بڑی آسانی پیدا ہوگی، ریونیو لیکج کو روکنے کیلئے لینڈ ریکارڈ کی مکمل ڈیجیٹل ریکارڈنگ بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق صوبے بھر کی تمام ریگولیٹری اتھارٹیز کو 7 دن کے اندر عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، تاکہ صوبے میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو شفاف، منظم اور جدید نظام کے تحت چلایا جا سکے۔