ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

معروف شاعر ڈاکٹر بشیر بدر انتقال کر گئے

معروف شاعر ڈاکٹر بشیر بدر انتقال کر گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ویب ڈیسک : معروف شاعر ڈاکٹر بشیر بدر انتقال کر گئے۔ انہوں نے 91 سال کی عمر میں اپنے بھوپال گھر میں آخری سانس لی۔

 بشیر بدر کی اہلیہ راحت بدر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کرتے ہوئے لکھا، "بشیر ہمیں چھوڑ کر چلے گئے... دعائیں۔"

 بشیر بدر کئی سالوں سے ڈیمنشیا میں مبتلا تھے، انہوں نے مشاعروں سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ یادداشت کی مکمل کمی کے باوجود وہ اپنی اہلیہ ڈاکٹر راحت بدر اور بیٹے طیب کی دیکھ بھال کی بدولت اپنے مداحوں سے ملتے رہے۔بھوپال میں آباد ہونے کے بعد بشیر صاحب نے فتح گڑھ میں بشیر منزل کو اپنا مسکن بنایا۔ ملک اور دنیا بھر سے لوگ ان سے ملنے آتے تھے۔ بشیر صاحب نے اسی گھر کے ایک کمرے میں آخری سانس لی۔ تاہم گزشتہ کئی سالوں سے ڈیمنشیا کی وجہ سے انہوں نے مشاعروں میں جانا تقریباً بند کر دیا تھا۔ ان سے ملنے آنے والے لوگوں کو وہ پہچان بھی نہیں سکتے تھے۔ بشیر صاحب اپنی یادداشت کھو چکے تھے۔

60 سال تک مشاعروں کی داد حاصل کرنے والے شاعر بشیر بدر صاحب لفظوں کے جادوگر تھے۔ تاہم، ڈیمنشیا نے انہیں اتنا متاثر کیا کہ آج وہ اپنے خیالات کو مکمل کرنے کے لیے الفاظ تلاش کرتے تھے۔ آخری دنوں میں ان کی زبان سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے لیکن ان کی اہلیہ اور بیٹے ڈیمینشیا سے لڑنے کی کوشش میں بشیر صاحب کے ساتھ کھڑے تھے۔ وہ اُن کے کانوں میں سرگوشی کرتے تاکہ اُن کو گزرے شاندار دنوں کی یاد دلا سکیں۔ کئی بار ایسا ہوتا کہ بشیر صاحب بولتے۔
 بشیر بدر کے انتقال پر معروف شاعر انجم بارابنکوی نے کہا کہ نئی غزل کی دنیا کا سب سے بڑا شاعر آج انتقال کر گیا ہے، نئی غزل کے حوالے سے پوری دنیا میں ان کا اپنا اثر تھا، بشیر صاحب غزل کے رجحان سازوں میں سے ایک تھے، ڈاکٹر بشیر بدر کا تعلق ایودھیا سے تھا، انہوں نے اٹاوہ اور علی گڑھ میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے میرٹھ میں نوکری کی اور پھر بھوپال چلے گئے اور وہیں سکونت اختیار کی۔ ان کا شعر ’’ اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو، نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے بہت مقبول ہوا اور منفرد شناخت قائم کی۔

مشہور شاعر وسیم بریلوی نے ای ٹی وی بھارت کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا، "بشیر بدر کے انتقال سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنا ناممکن ہے، یہ انتہائی افسوسناک خبر ہے، وہ میرے بہت ہی پیارے دوست تھے، 1970 سے لے کر جب تک وہ مشاعروں میں شرکت کرتے رہے، ہندوستان اور ہندوستان کے باہر بھی ہمارا ساتھ بنا رہا۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ ہماری غزل کی دنیا کا ایک عظیم ستارہ انتقال کر گیا ہے۔