ویب ڈیسک: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی قیادت میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ان سے متعلقہ پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
تفصیلات کے مطا بق اس اجلاس میں خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کو زیر غور لایا گیا۔
اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اگر بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوتی ہے تو اس کا براہ راست فائدہ عوام کو منتقل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسے نظام کو جلد حتمی شکل دینے پر زور دیا گیا جس کے ذریعے مستحق طبقات کو ہدف بنا کر سبسڈی فراہم کی جا سکے۔
شرکاء کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی مستحکم ہے اور ذخائر بھی مناسب سطح پر موجود ہیں۔ مزید برآں، ٹارگٹڈ سبسڈی کے مؤثر نفاذ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔
صوبائی نمائندوں نے اس موقع پر ایندھن کی بچت کے لیے عوامی طرز زندگی میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ خیبرپختونخوا کی جانب سے تیل کی ترسیل کے نظام کو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر قرار دیا گیا۔
اجلاس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ حکومتی مالی وسائل محدود ہیں، اس لیے پالیسی سازی میں احتیاط برتنا ناگزیر ہے۔ اعلامیے کے مطابق، پیٹرولیم لیوی کو سرکاری آمدن کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔
اختتام پر وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے ایک طرف عوام کو ریلیف ملے اور دوسری جانب معیشت کا استحکام بھی برقرار رہے، جبکہ سبسڈی کے نظام میں اصلاحات کو ترجیح دی جائے۔