ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب اسمبلی اجلاس، حکومتی رکن احسن رضا خان اور اپوزیشن رکن اویس ورک کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

 پنجاب اسمبلی اجلاس، حکومتی رکن احسن رضا خان اور اپوزیشن رکن اویس ورک کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

راؤ دلشاد: پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران حکومتی رکن احسن رضا خان اور اپوزیشن رکن اویس ورک کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلے پر ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جس کے باعث اجلاس 10 منٹ کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔

ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جب حکومتی رکن احسن رضا خان نے سابق پولیس افسر عمر ورک، جو اپوزیشن رکن اویس ورک کے والد ہیں، کے حوالے سے سخت ریمارکس دیے۔ اس پر اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اور احسن رضا خان سے معافی کا مطالبہ کیا، جبکہ پینل آف چیئر افتخار حسین چچڑ نے متنازع الفاظ کارروائی سے حذف کرنے کی ہدایت کردی۔

اپوزیشن رکن اویس ورک نے اپنے والد کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک میں دہشت گردی کے خلاف اہم کردار ادا کیا، متعدد دہشت گردوں کو گرفتار کیا اور قومی سلامتی کے لیے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد کی خدمات سب کے سامنے ہیں اور ان پر ذاتی حملے ناقابل قبول ہیں۔اپوزیشن ارکان نے پولیس آفیسر عمر ورک کے متعلق نازیبا الفاظ پر احسن رضا سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا،ملک پاکستان کی خاطر میرے والد نے قربانیاں دیں،لاہور ہائی کورٹ نیول وار کالج سری لنکن کرکٹ ٹیم ایف آئی اے مناواں پولیس ،داتا دربار ، مون مارکیٹ واہگہ بارڈر قلعہ گجر سنگھ کے باہر خود کش دھماکہ ہوا، آرمی کیمپ گجرات میں دھماکہ ہوا تو جوان شہید ہوئے تو میرے والد نے تمام دہشت گردوں کو پکڑا ،نوازشریف اور شہبازشریف پر جس نے حملہ کیا اس کو میرے باپ نے پکڑا تھا،لاہور میں 71 دہشت گردوں کی تفتیش میرے والد نے کی،میرے والد کے پکڑے گئے دہشت گرد  کو  سزائے موت دی گئی۔

اپوزیشن کے سینئر رکن رانا آفتاب احمد نے بھی حکومتی رکن کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ذاتیات پر مبنی سیاست مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمر ورک ان کے بڑے بھائی کی طرح ہیں اور احسن رضا خان کو اپنے الفاظ پر معذرت کرنی چاہیے۔

دوسری جانب احسن رضا خان نے اپنے خطاب میں پنجاب حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں صوبے میں ترقیاتی منصوبوں، صحت، انفراسٹرکچر اور گورننس کے شعبوں میں نمایاں کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سیاسی مداخلت کے خاتمے اور مختلف حکومتی اقدامات کا کریڈٹ بھی وزیراعلیٰ کو دیا۔

ایوان میں دونوں جانب سے شدید نعرے بازی اور احتجاج کے باعث ماحول کشیدہ ہوگیا، جبکہ اپوزیشن ارکان اسپیکر چیمبر چلے گئے اور احسن رضا خان کے خلاف کارروائی اور معافی کا مطالبہ کیا۔