سٹی42: اسرائیل کی سیاست میں وزیراعظم نیتن یاہو کے حریف سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے ایران پر اسرائیل کے حملوں کو صحیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی ھکومت کے دوران ایران آپریشن کے لئے خطیر فندز رکھے تھے۔
سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے ایران پر حملہ کرنے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ کو نشانہ بنانے والے حملے "توقع سے بہتر تھے۔" انہوں نے حملوں کے دوران اسرائیل کی حکمت عملیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ایرانی حملوں نے 'دنیا پر ثابت کردیا کہ ہم اب بھی" کمینے" ہیں'
آج شام کو اسرائیل کے چینل 12 نیوز کے ذریعے نشر ہونے والے پہلے سے ریکارڈ شدہ انٹرویو میں، بینیٹ نے بتایا کہ ان کی حکومت نے ایران میں آپریشنز کے لیے 6 بلین شیکل کا بجٹ رکھا تھا۔ (ایک شیکل 83 روپے 53 پیسے کا ہے)۔ نفتالی بینیٹ نے کہا ان کی فراہم کی ہوئی رقوم کے بغیر حملے ممکن نہیں ہوتے۔
بینیٹ نے کہا کہ "ناکامی 2018 میں ہوئی تھی،" یہ بتاتے ہوئے کہ اسرائیل نے 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تہران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے امریکہ کے دستبردار ہونے کے بعد ایران پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کی تھی۔ یہ بینیٹ کے نزدیک ایک غلطی تھا۔
بفتالی بینیٹ نے کہا، "میرے خیال میں یہ حملہ، جیسا کہ [پھٹنے والے] پیجرز نے حزب اللہ اور دیگر بہت اچھی چیزوں کو نشانہ بنایا، دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ ہم اب بھی "کمینے" ہیں، ہمارے پاس باکس سے باہر کی چالیں ہیں، اور یہ کہ ہمارے پاس طاقت اور ارادہ ہے۔"
نفتالی بینیٹ کی وزارتِ عظمیٰ
نفتالی بینیٹ اسرائیل کی چھتیسویں حکومت میں نصف مدت کے لئے پرائم منسٹر بنے تھے ۔ ان کی حکومت کو عرف عام میں لیپد بینیٹ حکومت کہا جاتا تھا۔ وہ 13 جون 2021 کو کنیست کے انتخابات کے بعد 2 جون 2021 کو یش عطید، بلیو اینڈ وائٹ، یامینا، لیبر پارٹی، یسرائیل بیتینو، نیو ہوپ، میرٹز، اور متحدہ عرب فہرست کے درمیان ایک اتحادی معاہدے پر دستخط ہونے کے نتیجہ میں وزیراعظم بنے تھے اور نسبتاً بہت کمزور وزیراعظم تھے۔
اتحادیوں کے معاہدہ کے مطابق حکومت کے دوران دو وزرائے اعظم ہونا تھے ۔ یعنی، ایک گردشی معاہدے کے تحت، یامینا کے نفتالی بینیٹ نے ابتدائی طور پر وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں لیکن بالآخر 30 جون 2022 کو اتحاد ک ہی توڑ ڈالا۔
اس اتحاد کے ٹوٹنے کے بعد یش اتید ک پارٹی کے یائیو لیپد 1 جولائی 2022 کو وزیر اعظم بنے۔ لیپد نے 1 نومبر 2022 کو انتخابات ہونے تک نگران وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ بینیٹ کی وزارت عظمیٰ کا ماحصل یہ تھا کہ ان کی پارٹی سمیت اتحاد کی تمام پارٹیوں کو کنیست کے نئے الیکشن مین نقصان ہوا اور بنیامن نیتن یاہو الیکشن میں کم ووٹ ملنے کے باوجود نیا اتحاد بنا کر وزیراعظم بن گئے اور اب تک وزیراعظم ہیں۔
یامینا اور یش عطید اسرائیلی کی سیاست میں حکومت بنانے والی بالترتیب چوتھی اور پانچویں جماعتیں بنیں۔ اس سے پہلے میپائی/لیبر پارٹی (1948–1977; 1984–1986; 1992–1996; 1999–2001), حیروت/ لیکود (1977–1984; 1986–1992; 1996–1999; 2001–2005; 2009–2021)، اور کدیما (2005–2009)۔ حکمران رہیں۔