سٹی 42 : سابق وزیر ابراہیم مراد نے کہا ہے کہ پاکستان کی پیٹرولیم درآمدات پر 15.2 ارب ڈالر کا سالانہ خرچ زرمبادلہ کے ذخائر پر بھاری بوجھ ہے، جنگ بندی کے بعد ایرانی تیل پر صدر ٹرنپ کی نرمی پاکستان کے لیے معاشی پیش رفت کا موقع ہے۔
ابراہیم مراد نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران سے تیل کی خریداری روپے یا بارٹر (چاول، گندم، فارما) میں کر کے 3 سے 4 ارب ڈالر سالانہ بچت ممکن ہے، اس حکمت عملی سے ایندھن کی قیمتوں میں 7 سے 9 روپے فی لیٹر کمی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر حکمت عملی سے غیر قانونی ایندھن کی تجارت کو معاشی ترقی میں بدلا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران-پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو فوری عملی شکل دینی چاہیئے، توانائی کے بارٹر معاہدے ملکی معیشت کے لیے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ تیل کی نئی حکمت عملی سے زرمبادلہ کا استحکام، سستی توانائی اور علاقائی تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔