پنجاب میں ڈی ایم جی اور پی ایم ایس افسران میں تضاد

پنجاب میں ڈی ایم جی اور پی ایم ایس افسران میں تضاد

قیصر کھوکھر: پنجاب کی افسر شاہی میں اس وقت دو گروپ غالب ہیں۔ ان میں ایک ڈی ایم جی گروپ ہے اور دوسرا پی ایم ایس گروپ ۔ یہ دونوں مل کر پنجاب کی بیوروکریسی کو چلاتے ہیں ۔اس وقت پنجاب میں تمام کلیدی عہدوں پر ڈی ایم جی افسران تعینات ہیں۔ چیف سیکرٹری پنجاب، تمام ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سیکرٹری سروسز، سیکرٹری ٹو وزیر اعلیٰ، چیئرمین پی اینڈ ڈی سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سبھی افسران ڈی ایم جی ہیں۔

پی ایم ایس افسران کو اول تو گریڈ 20اور گریڈ21میں ترقی ہی نہیں ملتی اور اگرمل بھی جائے تو انہیں سیکرٹری اور کمشنر نہیں لگایا جاتا اور اس وقت پنجاب سول سیکرٹریٹ میں تمام کے تمام سیکرٹری سوائے ایک دو سیکرٹریوں کے ڈی ایم جی افسران تعینات ہیں۔ زیادہ تر ڈی سی بھی ڈی ایم جی افسران ہیں اور صرف ایک کمشنر بہاولپور پی ایم ایس افسر ہیں۔ باقی سارے کے سارے کمشنر ڈی ایم جی افسران ہیں۔

ڈی ایم جی افسر کو گریڈ سترہ میں ہی ڈپٹی سیکرٹری لگا دیا جاتا ہے اور گریڈ 18 کے ڈی ایم جی افسر کو ایڈیشنل سیکرٹری، ڈی سی اور ڈی جی لگا دیا جاتا ہے جبکہ پی ایم ایس افسر کو اس حق سے محروم رکھا جاتا ہے ۔ سابق چیف سیکرٹری پنجاب میجر( ) اعظم سلیمان خان جو تیس جون کو ریٹائر ہو رہے ہیں، انہیں ریٹائرمنٹ سے قبل ہی صوبائی محتسب پنجاب تعینات کر دیا گیا ہے۔ وہ لاہور میں ہی نوکری کریں گے اور مزید چار سال کیلئے انہیں نئے سرے سے ایک نوکری مل گئی ہے۔

یہ موجیں کسی ڈی ایم جی افسر کو ہی مل سکتی ہیں، یہ سہولتیں کسی پی ایم ایس افسر کے حصے میں کبھی بھی نہیں آ سکتیں۔ بطور صوبائی محتسب ان کی ماہانہ تنخواہ آٹھ لاکھ روپے اور دیگر سہولتیں اور مراعات لاہور ہائی کورٹ کے جج کے برابر ہیں اور پی ایم ایس افسر محمود جاوید بھٹی جو کہ گریڈ20 سے بطور ایم ڈی پنجاب سیڈ کارپوریشن ریٹائر ہوئے ہیں انہیںکچھ بھی نہیں دیا گیا، حتیٰ کہ ان کی اگلے گریڈ میں ترقی کا معاملہ بھی ابھی تک حل نہیں ہو سکا جبکہ اسی طرح پی ایم ایس افسران وحید اختر انصاری اور غلام صغیر شاہد کو بھی ابھی تک ترقی نہیں ملی ۔

غلام صغیر شاہد کے جونیئر ایڈیشنل سیکرٹری اور ڈی سی لگے ہوئے ہیں، جبکہ وہ ابھی تک محکمہ سپیشل ایجوکیشن میں ڈپٹی سیکرٹری ہی ہیں اور گزشتہ تین سال سے وہ ایک ہی سیٹ پر کام کر رہے ہیں۔ ڈی ایم جی افسران کو سرکاری گاڑیاں بہتر نوعیت کی دی جاتی ہیں اور گھر بھی جی او آر ون میں دیئے جاتے ہیں جو کہ کئی کئی کنال پر محیط ہیں۔ ہر ڈی ایم جی افسر ڈی سی اور کمشنر لگنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جبکہ پی ایم ایس افسر قسمت والے ہی ڈی سی اور کمشنر لگتے ہیں۔

ہر ڈی ایم جی افسر سیکرٹری لگ جاتا ہے جبکہ قسمت والا پی ایم ایس افسر ہی سیکرٹری لگنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ ڈی ایم جی افسر کی ہر پانچ سال بعد از خود اگلے گریڈ میں ترقی کا ایک نظام موجود ہے اور وہ بلا کسی رکاوٹ گریڈ22تک پہنچ جاتا ہے جبکہ پی ایم ایس افسران کی اگلے گریڈ میں ترقی کا بہت سست اور فرسودہ نظام ہے اور گریڈ 18 اور گریڈ 19 میں جاتے جاتے بوڑھے ہو جاتے ہیں۔

خاص طور پر ریٹائر ہونے والے ڈی ایم جی افسران کو نوازا جاتا ہے اور انہیں پنجاب پبلک سروس کمیشن کا ممبر لگا دیا جاتا ہے جہاں پر ماہانہ تنخواہ ایم پی ون پے پیکیج ہے جو کہ تقریباََ آٹھ لاکھ روپے ماہانہ بنتا ہے، اس طرح ریٹائرمنٹ کے وقت ایک ڈی ایم جی افسر کی ماہانہ تنخواہ دو لاکھ کے قریب ہوتی ہے جبکہ ممبر پنجاب پبلک سروس کمیشن لگنے کے بعد ان کی ماہانہ تنخواہ آٹھ لاکھ روپے لگ جاتی ہے، جس سے ان افسران کی موجیں ہی موجیں ہو جاتی ہیں اور اسی طرح ان ڈی ایم جی افسران کو نوزا جاتا ہے ۔

پی ایم ایس افسران کو گریڈ 20اور گریڈ 21میں ترقی دینے کے پروموشن بورڈ کے تمام ممبران ڈی ایم جی افسران ہیں اور اس بورڈ کا سربراہ چیف سیکرٹری پنجاب ہے۔ اس لئے پی ایم ایس افسران کو جان بوجھ کر ترقی سے محروم رکھ کر ان کی اسامیاں خالی رکھی جاتی ہیں۔ کیونکہ اگر وہ گریڈ بیس اور گریڈ اکیس میں پہنچ گئے تو وہ ڈی ایم جی افسران کیلئے ٹرانسفر پوسٹنگ میں ٹف ٹائم دیں گے۔

اسی لئے ان کی اگلے گریڈ میں ترقی محدود پیمانے پر کی جاتی ہے، جس سے پی ایم ایس افسران پنجاب میں احساس محرومی کا شکار ہیں جبکہ صوبہ کے پی کے، بلوچستان اور سندھ میں صورتحال مختلف ہے۔ کیونکہ وہاں پر ڈی ایم جی افسران کا ہولڈ کم ہے، اسی لئے وہاں پر صوبائی سروس کے افسران اہم اسامیوں پر بھی تعینات ہیں۔ پی ایم ایس اور ڈی ایم جی افسران دونوں ہی مقابلے کے امتحان سے سلیکٹ ہو کر آتے ہیں ان کی ٹریننگ بھی کم و بیش ایک جیسی ہی ہوتی ہے، لیکن ڈی ایم جی افسران سنٹرل افسران ہوتے ہیں اور پی ایم ایس افسران صوبائی افسران ہوتے ہیں۔

اس لئے ان میں اس تفریق کی وجہ سے ایک گروپ دوسرے گروپ کو دبا کر رکھتا ہے۔پی ایم ایس افسران نے کئی بار ہڑتال اور گرفتاریاں بھی دی ہیں اور حکومت پنجاب سے کئی بار مطالبہ بھی کیا ہے کہ ان کیساتھ برابری کی سطح پر ڈیل کیا جائے اور انہیں برابر کا حق دیا جائے لیکن ابھی تک ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی ۔ تعیناتیوں اور مراعات میں کھلے تضاد سے پی ایم ایس افسران کی جہاں حق تلفی ہو رہی ہے وہیں ان کیساتھ امتیازی سلوک ان کی پرفارمنس پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

اس لئے حکومت کو ایسی پالیسیاں بنانی چاہیں کہ محنتی افسران ہی آگے آئیں اور ملک وقوم کیلئے بہترانداز میں پرفارم کریں۔