ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ کا ملازمین کو ریگولر کرنے کے متعلق بڑا فیصلہ ،ہائیکورٹ نے پراجیکٹ ملازمین کو ریگولر کرنے کیلئے دائر درخواستیں خارج کردیں ،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب محمد عثمان خان نے ملازمین کو مستقل کرنے کی اپیلوں کی مخالفت کی ۔
جسٹس عاصم حفیظ اور جسٹس خالد اسحاق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پنجاب حکومت کے لاء افسر کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کے پراجیکٹ ملازمین کی مستقلی کیلئے دائر انٹرا کورٹ اپیلیں خارج کیں ،،پناہ گاہوں اور عافیت اولڈ ایج ہوم ملازمین نے مستقلی کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے ان کی مستقلی کی دائر درخواستیں خارج کردی تھیں ، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عثمان خان نےاپیلوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پراجیکٹ اور کنٹریکٹ ملازمین میں فرق ہے،کنٹریکٹ ملازمین مستقل ہوسکتے ہیں ، پراجیکٹ ملازمین نہیں ، کنٹریکٹ اور پراجیکٹ ملازمین کیساتھ یکساں سلوک نہیں کیا جاسکتا ، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عثمان خان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت ملازمین کو ریگولر کرنے کے متعلق پالیسی واضح کررکھی ہے، عدالت حکومت کے پالیسی معاملات میں دخل نہیں دے سکتی۔