ویب ڈیسک : دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت ( اے آئی) سے پیدا ہونے والے سائبر خطرات کے تدارک کیلئے عالمی سطح پر اقدامات کا مطالبہ کردیا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی اور اس کی حریف کمپنی اینتھروپک سمیت دنیا بھر کی 100 سے زائد تنظیموں نے ایک کھلا خط جاری کیا ہے جس میں مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے سائبر سکیورٹی خطرات کے خلاف ’سائبر دفاع کو مضبوط بنانے‘ کے لیے عالمی سطح پر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’ہمارے پاس سائبر دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے محدود وقت ہے۔ آنے والے مہینوں میں جیسے جیسے دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز مزید قابل ہوتے جائیں گے اے آئی پر مبنی سائبر حملے کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہو جائیں گے‘۔
خیال رہےکہ حالیہ مہینوں میں دنیا کی دو سرکردہ اے آئی ڈیولپر کمپنیوں، اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے تیار کردہ جدید ترین ماڈلز کی صلاحیتوں کے حوالے سے تشویش میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
جولائی کے وسط میں اوپن اے آئی کے دو ماڈلز اپنے محدود ٹیسٹنگ ماحول سے باہر نکل کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے جہاں انہوں نے 'ہگنگ فیس' نامی سائٹ کو تلاش کر کے اس پر حملہ کیا، واضح رہے کہ اے آئی ڈیولپرز اس سائٹ کوڈز کو محفوظ کرنے اور شیئر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
بعد ازاں اینتھروپک کے حوالے سے بھی یہ انکشاف ہوا کہ ایک ایسی ٹیسٹنگ کے دوران جس کا مقصد ماڈلز کو حقیقی دنیا کے سسٹمز سے دور رکھنا تھا، اس کے ماڈلز نے 3 نامعلوم تنظیموں کے سسٹمز تک غیر مجاز رسائی حاصل کر لی تھی۔
جمعرات کو شائع ہونے والے اس کھلے خط میں ایک اجتماعی ردعمل کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس میں اس حقیقت کو تسلیم کرنا شامل ہے کہ موجودہ سائبر سکیورٹی اقدامات ناکافی ہیں اور نئے خطرات سے دفاع کے لیے اے آئی پر مبنی ٹولز ہی کی ضرورت ہے۔
خط میں حکومتوں سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور مختلف کوششوں کے لیے فنڈز فراہم کرنے سمیت مقامی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر سائبر دفاع کو مربوط کریں‘۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ طاقتور ترین جنریٹو اے آئی بنانے والی کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ ٹیسٹنگ کے عمل کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ذمہ دارانہ طور پر ماڈلز تک رسائی، نمایاں فنڈنگ، تربیت اور عملی معاونت فراہم کریں۔ تاہم، اس خط میں ان مقاصد کے لیے فنڈنگ کی کسی مخصوص رقم یا مالی وعدوں سے متعلق کوئی تجویز شامل نہیں کی گئی۔