لاہور میں کورونا سے ریکارڈ اموات، پنجاب حکومت نے بڑا فیصلہ کرلیا

Coronavirus
کیپشن: Coronavirus
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

جیل روڈ (زاہد چودھری، عظمت اعوان، قذافی بٹ)  کوروناکے جاں لیوا حملوں میں شدت، لاہور میں کورونا مثبت کیسز  کی شرح 24 فیصد ہوگئی، گزشتہ 24  گھنٹے کے دوران شہر میں ریکارڈ 54 اموات اور  1306 نئے مریض رپورٹ ہوئے۔

 سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں مجموعی طور پر 1278 مریض داخل ہیں جن میں سے 826 کنفرم اور 456 مشتبہ ہیں، ہسپتالوں میں کورونا کے 277 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے ۔جنہیں وینٹی لیٹر کے ذریعے مصنوعی تنفس فراہم کیا جارہا ہے۔ ہسپتالوں کے آئی سی یوز میں 93 فیصد گنجائش ختم ہوچکی ہے اور شدید علیل مریضوں کیلئے آئی سی یو میں بستر ملنا مشکل ترین ہوگیا۔

جناح ہسپتال میں وینٹی لیٹرز کورونا مریضوں سے بھر گئے، 24 گھنٹے کے دوران متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ بھی ہوا، اب تک جناح ہسپتال میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 160 ہے جن میں سے 49 افراد کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ سات افراد جان سے گئے، لاہور پولیس کے مزید 24 افسر و اہلکار کورونا کا شکار ہو گئے۔

علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیرصدارت کورونا کابینہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس بھی ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب حکومت کورونا ویکسین خود بھی خریدے گی، اجلاس میں کورونا ویکسین خریدنے  کیلئے ایک ارب 50 کروڑ روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔ میڈیکل سٹورز، پٹرول پمپس، ویکسی نیشن سنٹرز اور دیگر ضروری سروسز کے سوا تمام سرگرمیاں شام 6 بجے تک بند کرنے کی تجویز کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کردی گئی، کمیٹی جلد اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جم بھی بند رہیں گے، ہسپتالوں میں الیکٹو سرجری کو بند کر دیا گیا، دفاتر میں 50 فیصد عملہ حاضر ہوگا، ہسپتالوں میں آکسیجن کی سپلائی کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا، آکسیجن سلنڈر زائد نرخ پر فروخت کرنیوالوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ سلنڈرکی ذخیرہ اندوزی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی، ویکسی نیٹرز اور ڈیٹا انٹری عملے کی بھرتی کی اصولی منظوری بھی دی گئی، انسداد کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا، اجلاس میں کورونا ویکسین لگانے کیلئے سنٹرز کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا،  لاہور میں 3 نئے سنٹرز بنائیں جائیں گے۔