ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے دو کلو ہیروئن کے مقدمے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کی سپرداری کیلئے دائر درخواست پر سماعت کے بعد معاملہ ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا اور حکم دیا کہ گاڑی کے مالک فیاض حسین کو طلب کرکے سپرداری سے متعلق فیصلہ کیا جائے۔
جسٹس فاروق حیدراورجسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ درخواستگزار فیاض حسین کی جانب سے دائر درخواست پرڈی جی ایکسائز عمر شیرچٹھہ اور اے این ایف کے وکیل پیش ہوئے۔ جسٹس علی ضیاء باجوہ نے استفسار کیا، کیا آپ ریکارڈ ساتھ لائے ہیں؟جس پراے این ایف کے وکیل نے جواب دیا کہ "آن لائن ریکارڈ موجود ہے۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئےکہا آن لائن ریکارڈ کا کیا مطلب ہے؟ عدالت نے پوچھا کہ مقدمہ کب کا ہے؟ڈی جی ایکسائزنے بتایا کہ اکتوبر2019 کا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا، کیا آپ نے گاڑی کے مالک فیاض حسین کو طلب کیا تھا؟جسٹس فاروق حیدرنےریمارکس دیئےکہ اگر وہ طلب ہوتا تو اُسے معلوم ہوتا کہ اس کی گاڑی منشیات میں استعمال ہوئی ہے۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے معاملہ ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ کرتے ہوئے حکم دیا کہ گاڑی کے مالک فیاض حسین کو طلب کرے اور سپرداری سے متعلق فیصلہ قانون کے مطابق کرے۔
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App