ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وائٹ ہاؤس پر فائرنگ  کا  واقعہ؛ افغان طالبان رجیم پوری دنیا کے امن کیلئے خطرہ بن گئے

وائٹ ہاؤس پر فائرنگ  کا  واقعہ؛ افغان طالبان رجیم پوری دنیا کے امن کیلئے خطرہ بن گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : وائٹ ہاؤس پر فائرنگ  کا  واقعہ، افغان طالبان رجیم  پوری دنیا کے امن کیلئے سنگین خطرہ بن گئے ۔ امریکی صدر نے واقعہ کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے افغان شہریوں کی  امیگریشن کی تمام  درخواستیں روک دی ہیں۔ عالمی  میڈیا اور  سیکورٹی فورسز نے  افغان شہریوں کو دنیا بھر کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا جبکہ  یہ بھی کہا افغانستان میں دہشت گرد نیٹورکس  اور دہشت گرد تنظیمیں دوبارہ  سرگرم  ہو رہی ہیں ۔وائٹ ہاوس کے سیکورٹی اہلکاروں کو زخمی کرنے والا بھی امریکہ میں پناہ کے لیے آیا تھا ۔پاکستان  امن کی آواز بلند کرتے ہوئے کئی بار کہہ چکا ہے کہ  افغانستان میں تمام دہشتگرد تنظیمیں پنپ رہی ہیں جو  دنیا کیلئے سنگین خطرہ ہوسکتی ہیں ۔

واشنگٹن میں فائرنگ کا واقعہ ایک بڑے عالمی پیٹرن کا حصہ دکھائی دیتاہےجہاں افغان نژاد نیٹ ورکس دوبارہ سرگرم ہو رہے ہیں.افغان نیٹ ورکس یورپ اور شمالی امریکہ تک پھیل چکے ہیں جو کہ افغانستان کا عدم استحکام اب دنیا بھر میں  پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں ۔افغان طالبان رجیم صرف افغانستان کے لئے  نہیں بلکہ پورے  دنیا کی سیکیورٹی کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے قریب رحمان اللہ لاکانوال نے نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا۔ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق رحمان اللہ 2021 میں آپریشن الائیز ویلکم کے تحت امریکہ آیا تھا۔ اس مشتبہ شخص نے 2024 میں پناہ کی درخواست دی تھی، جو اپریل 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے منظور کر لی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کو دہشت گردی قرار  دیا ہے ۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن کی تمام درخواستیں غیر معینہ مدت کے لیے روک دی ہیں ۔ یورپی یونین  انسٹی ٹیوٹ آف سیکیورٹیز اسٹیڈیز کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم  نے  ملک میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے اراکین کو افغان پاسپورٹ جاری  کئے۔افغان طالبان رجیم کے دہشتگرد گروہوں سے بڑھتے تعلقات  داخلی استحکام اور پڑوسی ممالک کیلئے سنگین خطرہ بن چکے ہیں ۔

اقوام متحدہ  کی  سلامتی کونسل کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم کا دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا خطے کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے۔پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک پہلے ہی افغان طالبان رجیم کی دہشتگردوں کیلئے پشت پناہی پر خدشات ظاہر کرچکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ڈنمارک اور روس نے فتنہ الخوارج کے مذموم عزائم سے عالمی برادری کو خبردار کر دیا ہےجبکہ پاکستان بارہا یہ کہ چکا ہے کہ افغانستان میں تمام دہشتگرد تنظیمیں پنپ رہی ہیں اورڈی جی آئی ایس پی  آر نے بھی اپنی پریس بریفنگ میں  متعدد مرتبہ بتایا کہ  امریکی  ساختہ  ہتھیار اور اسلحہ کھلے عام  فروخت  ہو  رہا ہےاور افغانستان میں ایک وار اکانومی جنم لے چکی ہے جس کو افغان طالبان کی سرپرستی حاصل ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے افغانستان سے انخلاء کے وقت تقریباً 7 ارب ڈالر مالیت کا امریکی فوجی سامان چھوڑا تھا جوامریکی انخلاء کے بعد ہتھیاروں کی افغانستان میں موجودگی بھی بہت بڑادہشتگردی کا محرک  ثابت ہورہاہے ۔ ہتھیار  بیچے جا چکے ہیں یا  دہشتگرد  گروہوں کو اسمگل کر دیے گئے ہیں ۔اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کا ماننا ہے کہ ان میں سے کچھ ہتھیار القاعدہ کے اتحادی گروہوں کے ہاتھوں میں بھی پہنچ چکے ہیں۔