ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

افغان باشندوں کی واپسی کی آخری مہلت؛ وزارت داخلہ نے اہم فیصلہ صادر کر دیا

Afghanistan Pakistan row, cross border terrorism, illegal afghans in Pakistan, City42
کیپشن: پاکستان میں مقیم غیر قانونی افغانوں میں سے سینکڑوں ایسے نکلے  جو دہشتگردوں کو پاکستان مین سہولیات فراہم کر رہے تھے۔ دہشتگردوں میں سے درجنوں ایسے نکلے جو افغانستان کے شہری ہیں۔  پاکستانیوں نے فی سبیل اللہ مدد کی غرض سے چالیس لاکھ افغانوں کو پالا اور اپنے منہ کا نوالا ان کے منہ میں ڈالا؛ بدلے میں ہم دہشتگردی کا عذاب جھیل رہے ہیں۔  اب حکومت دہشتگردی کو جڑ سے اکھارنے کے لئے ہر ضروری اقدام کرنے پر کمر بستہ ہے، غیر قانونی افغانوں کو بھی جانا ہو گا۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:   وفاقی حکومت  افغان باشندوں کیلئے 31 مارچ تک ملک چھوڑنےکی ڈیڈلائن میں توسیع نہیں کر رہی۔ 31 مارچ تک تمام  غیر قانونی افغان باشندوں کو افغانستان واپس بھیجنے کا فیصلہ حتمی ہے۔

آج یہ فیصلہ کیا گیا کہ آخری تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ 

وزارت داخلہ  مین آج افغان باشندوں کو  31 مارچ تک پاکستان سے نکالنے کے متعلق اہم اجلاس ہوا۔ ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ اس  اجلاس میں افغان باشندوں کے لیے 31 مارچ تک ملک چھوڑنےکی ڈیڈلائن پر سختی سے عمل کرنےکا فیصلہ کیا گیا۔

راولپنڈی اور اسلام آباد میں غیرقانونی موجود افغان باشندوں کو پہلے ہی نکالنے کی ہدایت کی جاچکی ہے۔

 ایمنسٹی انٹرنیشنل نے غیر قانونی طورپر مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا پلان واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور یہ دلیل دی ہے کہ 31 مارچ تک کی ڈیڈلائن افغان شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کرےگی۔ پاکستان کا اس ضمن میں یہ مؤقف ہے کہ غیر قانونی افغان باشندوں کو اپنے ملک واپس جانے کے لئے بار بار مہلتیں دی گئیں، اب پاکستان کے حالات مزید مہلت دینے کی اجازت نہیں دیتے۔  31 مارچ کی ڈیڈ لائن بہت ہفتوں پہلے بتائی گئی تھی۔ یہ کوئی اچانک سنایا گیا حکم نہیں جس پر عمل درآمد کرنے مین کسی کو مشکلات پیش آئیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان نے 2023 سے2025کے درمیان 8 لاکھ 44 ہزار 499 افغان باشندوں کو  واپس بھیجا ۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اب بھی لاکھوں کی تعداد مین غیر قانونی افغان باشندے پاکستان مین موجود ہیں، پاکستان کو اپنی سلامتی اور دیگر اہم وجوہات کی بنا پر  ان افغان باشندوں کو بہت پہلے واپس بھیج دینا چاہئے تھا لیکن نام نہاد انسانی ہندردی کی مجبوریوں کو لے کر پاکستان اپنے وجود پر زخم کھا رہا ہے اور ان افغان باشندوں کو  گنجائش سے بہت زیادہ مہلتین دے چکا ہے۔