ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ملازمتوں میں بڑی کٹوتی؟ووکس ویگن کی تاریخ کی سب سے بڑی تنظیمِ نو

ملازمتوں میں بڑی کٹوتی؟ووکس ویگن کی تاریخ کی سب سے بڑی تنظیمِ نو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:جرمنی کی معروف آٹو ساز کمپنی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی تیاریاں جاری ہیں، جہاں کاروباری دباؤ اور عالمی مسابقت کے باعث وسیع تنظیمِ نو پر غور کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس منصوبے کے اثرات ملازمتوں، پیداواری یونٹس اور کمپنی کے مستقبل کے ماڈل پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جرمن آٹو کمپنی ووکس ویگن اپنی تاریخ کی سب سے بڑی تنظیمِ نو پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت ایک لاکھ تک ملازمتوں میں کمی اور جرمنی میں چار فیکٹریاں بند کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔ ممکنہ طور پر ہینوور، زویکاؤ، ایمڈن اور آڈی کے نیکرسلم پلانٹس اس منصوبے سے متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ صرف ان مقامات پر 45 ہزار سے زائد ملازمتیں براہِ راست متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کمپنی کی جانب سے مجوزہ منصوبہ سپروائزری بورڈ کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے اور اس پر 9 جولائی کے اجلاس میں تفصیلی غور متوقع ہے۔ مجموعی حکمتِ عملی کا مقصد اخراجات کم کرنا اور کمپنی کے آپریشنل ڈھانچے کو دوبارہ ترتیب دینا بتایا جا رہا ہے۔

ووکس ویگن کو اس وقت کئی معاشی اور تجارتی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں چین کی جانب سے بڑھتی مسابقت، یورپی مارکیٹ میں طلب میں کمی اور امریکہ کی جانب سے تجارتی ٹیرف شامل ہیں۔ ان عوامل نے کمپنی کے موجودہ کاروباری ماڈل پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اولیور بلومے اس سے قبل بھی 2024 میں بڑے پیمانے پر اصلاحاتی اقدامات پیش کر چکے ہیں، تاہم اس وقت انہیں مزدور یونینز کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تازہ منصوبے پر بھی جرمنی کی طاقتور یونینز اور ورکس کونسل نے تحفظات اور مخالفت کا اظہار کر دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صرف اخراجات میں کمی طویل مدتی حل ثابت نہیں ہو گی بلکہ کمپنی کو مارکیٹ کی نئی ضروریات کے مطابق مصنوعات متعارف کرانا ہوں گی، بصورتِ دیگر بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب جرمن ریاست لوئر سیکسنی، جو کمپنی کے بڑے شیئر ہولڈرز میں شامل ہے، نے بھی مجوزہ اقدامات پر تحفظات کا اشارہ دیا ہے۔