ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان کا توانائی شعبے میں بڑا قدم، 11 ایکسپلوریشن لائسنس جاری

پاکستان کا توانائی شعبے میں بڑا قدم، 11 ایکسپلوریشن لائسنس جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:تیل اور گیس کی تلاش کے حوالے سے نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت آئندہ تین برسوں میں 8.66 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

حکومتی اعلامیے کے مطابق ملک میں ہائیڈروکاربن کی تلاش کے لیے مجموعی طور پر 11 آن شور بلاکس تفویض کر دیے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے شرکت کی، جہاں پیٹرولیم کنسیشن معاہدوں اور ایکسپلوریشن لائسنسز پر باقاعدہ دستخط کیے گئے.

میڈیا رپورٹس کے مطابق ان بلاکس پر آئندہ تین سال کے دوران 8.66 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، جبکہ 276 ملین روپے سماجی بہبود اور فلاحی سرگرمیوں کے لیے مختص ہوں گے۔ تقسیم کیے گئے بلاکس میں سے 8 بلوچستان، 2 سندھ اور ایک پنجاب میں واقع ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر پٹرولیم نے کہا کہ یہ پیش رفت مقامی وسائل کی دریافت کو تیز کرنے اور سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدے ملک کے اپ اسٹریم شعبے کی استعداد اور سرمایہ کار برادری کے اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔

جن کمپنیوں کو یہ بلاکس دیے گئے ہیں ان میں او جی ڈی سی ایل، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ، ماری انرجیز، پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ اور پرائم گلوبل انرجیز شامل ہیں۔