مالی بجٹ19-2018 پر اردو بازار کے تاجروں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا


ذیشان صفدر :وفاقی حکومت کے حالیہ مالی بجٹ دو ہزار اٹھارہ انیس پر آل پاکستان انجمن تاجران ناخوش،انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے دیئے ہوئے برائے نام ٹیکس ختم کر کے عوام کو لالی پوپ دے دیا۔

حالیہ وفاقی بجٹ سے تاجر برادری کو بڑی توقعات تھیں لیکن موجودہ بجٹ سامنے آنےکے بعد تاجر برادری کی توقعات پر پانی پھر گیا۔ صدر آل پاکستان انجمن تاجران خالد پرویز کا کہنا تھا کہ انکی حکومت سے توقعات تھیں کہ اس بجٹ میں ودہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کیا جائے گا۔ کاپی، کتابوں، قرآن پاک کی اشاعت کے کاغذ پر ڈیوٹی صفر کی جائے گی لیکن بجٹ پیش ہونے کے بعد تاجروں کو کسی قسم کا کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ۔حکومت نے اپنے ختم ہونے والے مالی سال پر عوام کو ایک بار پھر لالی پاپ دیا ہے جس کو تاجر برادری مسترد کرتی ہے۔

دسری جانب لاہور چیمبر کا وفاقی بجٹ پر ملے جلے ردعمل کا اظہار، صدر ایوان صنعت وتجارت ملک طاہر جاوید کا کہنا ہے کہ بجٹ میں صنعت کیلئے کچھ نہیں، فائلر پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم ہونا چاہیے تھا، زرعی شعبہ، سروسز سیکٹر، پولٹری کیلئے ٹیکس میں کمی خوش آئند ہے۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں وفاقی بجٹ دوہزار اٹھارہ انیس کی بجٹ تقریر سننے کا اہتمام کیا گیا، صدر لاہور چیمبر ملک طاہر جاوید، سینئر نائب صدر خواجہ خاوررشید، نائب صدر ذیشان خلیل، چیئرمین پیاف عرفان اقبال شیخ،سابق صدور محمد علی میاں، شاہد حسن شیخ سمیت دیگرموجود تھے۔ صدر لاہور چیمبر ملک طاہر جاوید نے کہا کہ تین سال سے قبل آڈٹ کی تلوار ہٹانا اور ایف بی آر کے صوابدیدی اختیارات میں کمی خوش آئند ہے جبکہ سیلز ٹیکس ری فنڈز پر گول مول باتیں ہوئیں، زرعی مشینری،ایل این جی ،پولٹری،قرآن پاک کے کاغذ، الیکٹریکل کار کے شعبے،سٹیشنری سمیت دیگر شعبوں پر ٹیکس چھوٹ خوش آئند ہے۔

چیئرمین پیاف عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز خوش آئند ہے مگر ایکسپورٹ بڑھانے کا کوئی پیکج پیش نہیں کیا گیا۔ سابق صدر محمد علی میاں نے بجٹ کو متوازن قراردیدیا جبکہ سینئر نائب صدر خواجہ خاوررشید اور نائب صدر ذیشان خلیل نے کہا کہ ودہولڈنگ ٹیکس کو واپس نہ لینا مایوس کن ہے۔