سٹی42: سابق مرکزی وزیر نے اپنی طاقت استعمال کر کے بیٹے کو صوبائی حکومت میں وزیر بنوا دیا تو پارٹی میں بگاورت ہو گئی، وزیر کے ساتھی سیاستدان ساتھ چھوڑ گئے۔ پارٹی کی بنیادی رکنیت سے ہی استعفے دے ڈالے۔
یہ واقعہ پڑوسی ملک بھارت میں ہوا ہے جہاں نریندر مودی کی مرکزی حکومت کے سابق وزیر نے اپنے بیٹے کو ریاست بہار کی سوبائی ھکومت میں وزیر بنوایا ہے لیکن اس "کامیابی" پر انہیں لینے کے دینے پڑ گئے کیونکہ ان کی پارٹی کے اہم ترین ساتھی ان کو چھوڑ کر الگ ہو گئے ہیں۔ اور ساری کہانی پبلک کے سامنے رکھ دی ہے۔
بیٹے دیپک پرکاش کو وزیر بنانے پر اوپیندر کشواہا کی پارٹی ’آر ایل ایم‘ میں پھوٹ پڑ گئی ہے اور کئی لیڈر پارٹی کی بنیادی رکنیت سے ہی استعفے دے گئے ہیں۔ ساتھی سیاستدانوں کے سخت ردعمل نے نریندر مودی کے وزیر سخت دباؤ میں آ گئے ہیں۔
نتیش کابینہ میں دیپک پرکاش کو وزیر بنائے جانے پر راشٹریہ لوک مورچہ پارٹی ( آر ایل ایم) کے مستعفی ہونے والے قومی نائب صدر جتیندر ناتھ نے کہا کہ ’’اپیندر کشواہا نے اپنے بیٹے کو لانچ کرنے کے لیے یہ فیصلہ لیا ہے۔‘‘
بھارت کے میڈیا میں آج شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق راجیہ سبھا کےرکن اپیندر کشواہا کے بیٹے دیپک پرکاش کو بہار کی نتیش حکومت میں وزیر بنائے جانے کے بعد راشٹریہ لوک مورچہ (آر ایل ایم) میں شدید اندرونی مخالفت شروع ہو گئی ہے۔ آر ایل ایم کے قومی نائب صدر جتیندر ناتھ، ریاستی ترجمان راہل کمار اور ریاستی جنرل سکریٹری پرمود یادو سمیت کئی لیڈران نے پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے 26 نومبر کو آر ایل ایم کے قومی صدر اپیندر کشواہا کو خط بھیج کر کہا کہ گزشتہ دنوں پارٹی کے ذریعہ لیے گئے فیصلوں سے وہ متفق نہیں ہیں۔
جتیندر ناتھ نے اپنے استعفیٰ میں اپیندر کشواہا سے کہا کہ وہ گزشتہ 9 سال سے ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں، لیکن اب کئی سیاسی اور تنظیمی فیصلوں سے وہ خود کو منسلک نہیں کر پا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اب ساتھ کام کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے عہدہ اور پارٹی سے استعفیٰ دے دینا ہی مناسب ہے۔ انہوں نے ’لائیو ہندوستان‘ سے بات چیت کے دوران الزام عائد کیا کہ حال ہی میں بہار اسمبلی انتخاب کے دوران آر ایل ایم کے صدر اپیندر کشواہا نے سیٹوں کی تقسیم میں پارٹی کے مفادات کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔
نتیش کابینہ میں دیپک کو وزیر بنائے جانے پر بھی جتیندر ناتھ نے سوال کھڑے کیے اور کہا کہ ’’اپیندر کشواہا نے اپنے بیٹے کو لانچ کرنے کے لیے یہ فیصلہ لیا ہے۔‘‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپیندر کشواہا کی اہلیہ سہس رام حلقے سے انتخاب جیت رکن اسمبلی بنی ہیں، لیکن انہوں نے اپنی اہلیہ کو بھی وزیر نہیں بنایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اپیندر کشواہا کو اپنی اہلیہ پر بھی بھروسہ نہیں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اپیندر کشواہا کے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا حوالہ دے کر بیٹے کو وزیر اعلیٰ بنانے پر صفائی پیش کرنے والی سوشل میڈیا پوسٹ پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اپیندر کشواہا کے بیٹے دیپک پرکاش کو اسمبلی انتخاب میں جیت حاصل کیے بغیر ہی وزیر بنا دیا گیا ہے۔ ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ انہیں آئندہ ایم ایل سی انتخاب میں قانون ساز کونسل کا رکن بنا کر ایوان میں بھیجا جائے گا۔
اوپندر کشواہا کوں ہیں؟
اوپیندر کشواہا نے مئی 2014 سے دسمبر 2018 تک وزیر اعظم نریندر مودی کے تحت انسانی وسائل کی ترقی کے مرکزی وزیر مملکت (HRD) کے طور پر خدمات انجام دیں۔
انہوں نے مئی 2014 میں مرکزی حکومت میں وزیر مملکت برائے ایچ آر ڈی کا چارج سنبھالا۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے سیٹوں کی تقسیم کے انتظامات سے ناخوش ہونے اور بی جے پی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (NDA) سے باہر نکلنے کا حوالہ دیتے ہوئے، 10 دسمبر 2018 کو استعفیٰ دینے تک وہ اس عہدے پر فائز رہے۔
اوپندر کشواہا کی طاقت
حالیہ اسمبلی انتخاب میں اپیندر کشواہا کی پارٹی آر ایل ایم نے این ڈی اے میں رہتے ہوئے 6 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے تھے اور 4 پر جیت حاصل کی تھی۔ حالانکہ ان میں سے کسی کو بھی وزیر نہیں بنایا گیا۔ اس پر سوال اٹھنے کے بعد کشواہا نے صفائی پیش کرتے ہوئے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ واقعات سے سبق لیتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ ان کی پرانی پارٹی ’راشٹریہ لوک سمتا پارٹی‘ (آر ایل ایس پی) کے رکن اسمبلی اور رکن پارلیمنٹ ان کا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اس بار پارٹی کو ٹوٹ سے بچانے کے لیے انہوں نے اپنے بیٹے کو وزیر بنایا ہے۔ اپیندر کشواہا کی اس بودی دلیل کو کسی نے نہیں مانا بلکہ ناقدوں کے غصے میں اور اضافہ ہو گیا۔