ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکا نے فضائی حملے روکے، ایران نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کرنے کا اشارہ دے دیا

امریکا نے فضائی حملے روکے، ایران نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کرنے کا اشارہ دے دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں عارضی کمی کے آثار سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فضائی حملے روکنے کے فیصلے کے بعد ایران نے بھی عندیہ دیا ہے کہ جب تک امریکا حملے نہیں کرتا، وہ بھی اپنی عسکری کارروائیاں معطل رکھے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران کی پالیسی واضح ہے کہ " حملے کے بدلے حملہ" کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اگر امریکی حملے بند رہتے ہیں تو ایران بھی اپنی کارروائیاں روک دے گا، اور یہ پیغام واشنگٹن تک پہنچا دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران پر تقریباً دو ہفتوں تک رات کے وقت فضائی حملے کیے، تاہم جمعے کی شب یہ کارروائیاں اچانک روک دی گئیں۔ اس کے بعد ہفتہ اور اتوار کو کسی نئے امریکی حملے کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ ایران نے بھی گزشتہ دو روز سے کوئی جوابی کارروائی نہیں کی۔

امریکا کے اقوام متحدہ میں سفیر مائیک والٹز نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے حملے عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی پہلی ترجیح ہمیشہ سفارتی حل رہی ہے، تاہم اگر ایران سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ نہ ہوا تو امریکا کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران امریکی فیصلے کو مستقل پالیسی تبدیلی نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک عارضی اور حکمت عملی پر مبنی اقدام قرار دے رہا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کی وجہ سے امریکا پر مکمل اعتماد کرنا ممکن نہیں۔

ادھر امریکی میڈیا، نیویارک ٹائمز اور سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جنگ میں مزید شدت لانے کا منصوبہ اپنے بعض مشیروں کے تحفظات کے بعد مؤخر کیا۔ رپورٹس کے مطابق خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ خطے میں امریکی اڈوں کے دفاع کے لیے میزائل دفاعی نظام کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق بحیرہ احمر میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کی جانب سے سعودی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے اور سعودی تیل کی ترسیل روکنے کی دھمکیوں کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایران اور امریکا کی جانب سے تاحال حملے روکنے یا کسی نئی سفارتی پیش رفت سے متعلق کوئی مشترکہ یا باضابطہ اعلان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ خطے کی صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔