ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے درآمدی محصولات ( ٹیرف) کی نئی حکمت عملی کے تحت 60 ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد تک نئے ٹیرف عائد کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ اقدامات امریکی صنعت کے تحفظ، درآمدات میں کمی اور تجارتی خسارہ کم کرنے کی وسیع پالیسی کا حصہ ہیں۔
رائٹرز کے مطابق نئے ٹیرف ان ممالک پر عائد کیے جائیں گے جن پر جبری مشقت کے خلاف قوانین پر مؤثر عملدرآمد نہ کرنے کا الزام ہے۔ یہ محصولات 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نافذ کیے جائیں گے، جو ٹرمپ اپنے پہلے دورِ صدارت میں بھی چین کے خلاف استعمال کر چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آنے والے مہینوں میں مزید تجارتی تحقیقات بھی متوقع ہیں، جن میں اضافی صنعتی پیداواری صلاحیت، ویتنام پر دانشورانہ املاک کی مبینہ خلاف ورزیوں اور سیمی کنڈکٹرز، روبوٹکس اور صنعتی مشینری سمیت اہم صنعتوں کے تحفظ سے متعلق معاملات شامل ہیں۔
رائٹرز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی سابقہ "لبریشن ڈے" ٹیرف پالیسی سے امریکی حکومت کو 166 ارب ڈالر کی آمدن حاصل ہوئی تھی، تاہم عدالتی فیصلوں کے بعد درآمد کنندگان کو رقوم کی واپسی کے باعث اس آمدن کا بڑا حصہ متاثر ہوا ہے۔ اسی طرح 150 روزہ عارضی ٹیرف سے 5 جولائی تک 31 ارب ڈالر کی آمدن ریکارڈ کی گئی، لیکن اگر عدالت نے ان محصولات کو بھی کالعدم قرار دیا تو یہ رقم بھی واپس کرنا پڑ سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کا سرکاری قرض 40 کھرب ڈالر کے قریب پہنچ چکا ہے، جس کے باعث مستقبل کی حکومتیں بھی ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدن پر انحصار کر سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ بتدریج ایک مضبوط اور دیرپا " ٹیرف وال" تعمیر کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ان اقدامات کو قانونی چیلنجز کا سامنا بھی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق سیکشن 301 ماضی میں امریکی عدالتوں میں مضبوط قانونی بنیاد رکھتا ہے، اس لیے ان محصولات کے برقرار رہنے کے امکانات موجود ہیں۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے واضح کیا ہے کہ انتظامیہ مقامی صنعت کو فروغ دینے اور تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے تمام دستیاب قانونی اختیارات استعمال کرے گی۔ ان کے مطابق نئی ٹیرف پالیسی مختلف ممالک کے ساتھ ہونے والے تجارتی معاہدوں میں طے شدہ حد سے تجاوز نہیں کرے گی۔
رائٹرز کے مطابق چین پر مجموعی ٹیرف کی شرح تقریباً 20 فیصد تک محدود رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے، جو پہلے سے نافذ 25 فیصد محصولات کے علاوہ ہوگی، جبکہ یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا کے لیے 15 فیصد تک اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے لیے نسبتاً زیادہ شرحیں زیر غور ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے حالیہ دنوں کینیڈا کی جانب سے تجارتی رعایتیں نہ دینے پر بیئر، ڈیری مصنوعات، ہاکی اسٹکس اور دیگر اشیا پر 50 فیصد ٹیرف کا بھی اعلان کیا، جبکہ اسپین کو نیٹو دفاعی اخراجات کا ہدف پورا نہ کرنے پر تجارتی پابندیوں کی دھمکی دی۔
تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی اچانک ٹیرف پالیسیوں سے عالمی تجارتی نظام میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ اس کے اثرات نہ صرف عالمی معیشت بلکہ امریکی کاروباری اداروں اور صارفین پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔