ویب ڈیسک: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی سپرنگ میٹنگز کے موقع پر امریکا میں اہم عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاری کمپنیوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری جن میں پاکستان کی معیشت کی بہتری، سرمایہ کاری کے فروغ اور عالمی کیپیٹل مارکیٹس میں واپسی کے منصوبوں پر گفتگو ہوئی۔
جے پی مورگن کے نمائندوں سے ملاقات میں وزیر خزانہ نے پاکستان کے مثبت معاشی اشاریوں، ریکوڈک منصوبے میں پیشرفت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں تنوع کی حکومتی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پانڈا بانڈز کے اجرا کے ذریعے عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپس آنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے امریکا کے انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (USDFC) کے قائم مقام سی ای او ڈیَو جگدیسن سے ملاقات میں ریکوڈک سمیت مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں امریکی حکام کی شرکت کو سراہتے ہوئے، وزیر خزانہ نے اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا۔
وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے پینل مباحثے میں شرکت کرتے ہوئے خطے میں تجارت کے فروغ اور برآمدی ترقی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے آئی ٹی شعبے کو “گیم چینجر” قرار دیتے ہوئے ڈیجیٹل نظاموں کے نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔
وفاقی وزیر نے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) کے منیجنگ ڈائریکٹر مختار دیوپ سے ملاقات میں حالیہ معاشی اصلاحات، کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، کراچی ایئرپورٹ منصوبے میں تیزی اور ریکوڈک میں تعاون پر گفتگو کی۔
محمد اورنگزیب نے برطانیہ کی وزیر مملکت برائے بین الاقوامی ترقی بیرونیس چیپ مین سے بھی ملاقات کی اور ٹیکس نظام میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے انسانی رابطے کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے REMIT کے ذریعے ترقیاتی امداد کے مؤثر استعمال اور حکمت عملی کی تعریف بھی کی۔