انسان بچانے والوں کو انسانیت یاد رکھے گی۔۔ !!

انسان بچانے والوں کو انسانیت یاد رکھے گی۔۔ !!

اظہر تھراج:آ ج یورپ بند ہے،امریکا اکیلا ہے،افریقہ خوف زدہ،بھارت میں کرفیو ہے،پاکستان میں لاک ڈاﺅن ہے،ہر حکومت اپنے تئیں اس قاتل وائرس سے اپنے لوگوں کو بچانے کی کوشش کررہی ہے،پنجاب میں شاپنگ مالز،سیاحتی مراکز بند، سڑکیں سنسان ہیں ،کورونا نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو بھی جگا دیا ہے اور وہ خود ہدایات بھی دے رہے ہیں اور میڈیا سے بات بھی کررہے ہیں، سب سے شاندار کام وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شا ہ اور ان کی ٹیم کا ہے،وہ ایک مجاہد کی طرح لڑ رہے ہیں،ان کے وزرا اور وہاں کی سیاسی جماعتوں کا اتحاد بھی قابل تقلیدہے،وہ اس وقت وفاق اور چاروں صوبوں،گلگت ،آزاد کشمیر کو لیڈ کررہے ہیں تو کہنا غلط نہ ہوگا۔ بلوچستان میں جام کمال کمال کررہے ہیں،محدود وسائل میں کورونا کیخلاف جنگ جیتنے کی کوشش کررہے ہیں۔

دیہات میں شادیاں مکمل طور پر بند نہیں ہوئیں لیکن تقریبات چھوٹی ہوگئی ہیں۔انتظامیہ کچھ کرنا چاہے تو کرسکتی ہے،شہروں اور دیہات کی زندگی میں فرق ہے،دیہات میں لاک ڈاﺅن نہیں ہوسکتا۔دیہات میں اجتماع صرف شادیوں میں ہوتا ہے وہ کم ہوگیا ہے،دوسرا مذہبی اجتماع ہے، بروقت انتظامات نتیجہ خیز ہوتے ہیں،ہمارے پاس خوراک کی کمی نہیں صرف ذخیرہ اندوز ہی مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں، سماجی میل جول میں کمی نہیں آئی لیکن لوگ اب ہاتھ ملانے کے رواج کو کم کردیا گیا ہے،پنجاب یونیورسٹی سمیت دیگر تعلیمی اداروں کے ہاسٹلوں کو قرنطینہ کے طور پر لیا جاسکتا ہے۔طاقت سے معاملہ حل نہیں ہوگا،سماجی شعور کو فروغ دینے کی ضرورت ہے،بلدیاتی نمائندے اس حوالے سے بہت اچھا کردار ادا کرسکتے تھے لیکن بدقسمتی سے یہ نمائندے موجود نہیں۔حکومت کو ہسپتالوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔سب ذمہ داری ادا کریں گے تو اس مشکل سے ہم نکل آئیں گے۔

لوگوں کے پاس موبائل فون ہیں،اب تک تقربیاً سب لوگوں تک پیغام پہنچ چکا ہے کہ کورونا وائرس ہے کیا یہ کس طرح پھیلتا ہے،اس سے کس طرح بچا جاسکتا ہے؟ علمائے کرام،دانشور طبقے کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے،تمام ایس ایچ اوز کی ذمہ داری لگادی جائے کہ کوئی بندہ باہر نہ نکلے تو کنٹرول ہوسکتا ہے،اس وبا سے سب کو مل کرلڑنے کی ضرورت ہے،ہم نے اپنے ذرائع اور وسائل کے تحت انتظامات کیے جارہے ہیں،سوشل میڈیا پر پاکستان کو اٹلی ، یورپ،چین سے موازنہ دیا جارہا ہے جو ناانصافی ہے،ہمیں اپنے ماحول کے مطابق کام کرنا ہے،لوگوں کو چیزیں مل رہی ہیں،لوگ اپنے ارد گرد کے غریب لوگوں کا خیال رکھ رہے ہیں۔ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو لوگ قربانی دیں گے۔

ڈاکٹر اسامہ ریاض شہید جیسے لوگ کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کررہے ہیں، فرنٹ لائن پر کام کرنے والے سبھی ڈاکٹرز،نرسیں،دیگر طبی عملہ ہمارے ہیروز ہیں،تحسین کے قابل ہیں،پوری دنیا کے طبی عملے کو سلام ۔یہاں ہمیں پاک فوج،پولیس ،ریسکیو اہلکاروں ، میڈیا کے لوگوں کو نہیں بھولنا چاہئے،پوری دنیا گھروں میں بیٹھ سکتی ہے یہ گھروں میں بیٹھ گئے تو دنیا کا ہر انسان ایک ایک ہو کر ختم ہوجائے گا ۔یہ انسان بچا رہے ہیں انسانیت انہیں یاد رکھے گی۔