ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مصنوعی ذہانت کا وار: سونا اور چاندی کی قدر 12گھنٹوں میں1.1کھرب ڈالر گھٹ گئی

مصنوعی ذہانت کا وار: سونا اور چاندی کی قدر 12گھنٹوں میں1.1کھرب ڈالر گھٹ گئی
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں سونا اور چاندی اپنی حالیہ بڑھوتری برقرار نہ رکھ سکے۔ تحقیق کے مطابق صرف بارہ گھنٹوں کے دوران عالمی منڈی کی مجموعی مالیت میں تقریباً 1.1 کھرب ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

 معاشی ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں میں اس وقت بے چینی پائی جا رہی ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے اثرات کو روزگار، ادارہ جاتی منافع اور عالمی معاشی استحکام کے لیے ممکنہ خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب گاہ "ایکس" پر جاری ایک تجزیے میں کہا گیا کہ مصنوعی ذہانت کو اب صرف پیداواری صلاحیت بڑھانے والی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر معاشی جھٹکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بازار کے حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی کی تکنیکی ترقی کے برعکس مصنوعی ذہانت بیک وقت کئی شعبوں میں تبدیلی لا رہی ہے، خاص طور پر دفتری اور ذہنی نوعیت کے کاموں جیسے پروگرامنگ، تحقیق اور نظام کی خودکاری میں۔ اسی تناظر میں نئی مصنوعات کے اجرا کے بعد حصص بازاروں میں غیر معمولی مندی دیکھی گئی۔

رواں برس متعدد مواقع پر مصنوعی ذہانت کے آلات میں نمایاں بہتری کے فوراً بعد دنیا بھر میں اُن کمپنیوں کے حصص فروخت ہوئے جو خودکار نظاموں سے متاثر ہو سکتی تھیں۔ اس عمل کے نتیجے میں بڑی کمپنیوں کی مشترکہ منڈی مالیت میں کھربوں ڈالر کی کمی واقع ہوئی، جس میں ایشیائی ابھرتی معیشتیں بھی شامل رہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے فروغ اور قیمتی دھاتوں کی قیمتوں کے درمیان تعلق تاحال واضح نہیں، تاہم عالمی مالیاتی ادارے اس ممکنہ ربط کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔
 

Ansa Awais

Content Writer