ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کرائم کی بڑھتی شرح؛ آئی جی پنجاب پہلی باضابطہ کرائم میٹنگ بلانے پر مجبور

کرائم کی بڑھتی شرح؛ آئی جی پنجاب پہلی باضابطہ کرائم میٹنگ بلانے پر مجبور
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

علی ساہی :پنجاب میں جرائم کی  شرح بڑھتی جا رہی ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب  نے پولیس کے خود ساختہ پرفارمنس انڈیکٹرز  کو ریجیکٹ کردیا تھا ، اس کے بعد  آئی جی پنجاب اپنی تعیناتی کے بعدپہلی باضابطہ کرائم میٹنگ طلب کر  نے پر مجبور ہوگئے 
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور رواں ہفتے تمام ریجنز کی کرائم بارے کارکردگی کا جائزہ لیں گے،روزانہ کی بنیاد پر 2ریجنز کے کرائم بارے اقدامات کا جائزہ لیا جائےگا،ڈکیتی،قتل،اغوا ،چوری سمیت تمام کرائم کا جائزہ لیا جائے گا،وزیر اعلی نے گزشتہ ماہ اجلاس میں تمام ریجنل وضلعی افسران کو کارکردگی بہتر بنانے کاحکم دیا تھا،آئی جی پنجاب نےتعیناتی کے 2سال 1ماہ میں ویلفئیر اور ترقیوں پر بھرپور توجہ دی 

یاد رہے پچھلے ماہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے  پرفارمنس انڈیکٹرز میٹنگ میں پولیس کو کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کی  تھی اوراجلاس سے گفتگو میں وزیر اعلی نے سینئر افسران کو سخت تنبیہ جاری کی۔مریم نواز نے آئی جی پنجاب اور پولیس کے دیگر سینئر پولیس افسروں کو کہا تھا کہ  نمبرز گیم کی بجائے حقیقی طور پر کرائم پر قابو پایا جائے۔وزیراعلی نے کہا کہ لوگ تھانوں میں آکر حوالات میں ملزموں کو قتل کر رہے ہیں، یہ صورت تحال کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔شہریوں کو سرعام لوٹا اور مارا جارہا ہے، کئی علاقوں میں علاقہ غیر کا تاثر سامنے آرہا ہے۔ وزیراعلی نے پولیس کے پرفارمنس انڈیکٹیر میٹنگ میں کہا کہ  افسران کی کارکردگی کاغذوں پر نہیں حقیقی طور پر بہتر ہونی چاہئے۔وزیراعلی نے فیصل آباد، لاہور، راولپنڈی، ساہیوال ریجن کو کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کی اور ضلع ننکانہ صاحب، سرگودھا سمیت دیگر کو سخت الفاظ میں فیلڈ ورک بہتر بنانے کا حکم دیا۔ڈی پی او وہاڑی اور آر پی او ملتان کو بہتر کارکردگی پر شاباش دی گئی۔

اجلاس میں وزیراعلی پولیس کی جانب سے تیار کردہ کی پرفارمنس انڈیکیٹرز کی ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ سے تصدیق کرتی رہیں تھی ، پہلی دفعہ اجلاس میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور افسروں  کے دفاع کے بجائے خاموش رہے۔ کیونکہ وزیر اعلیٰ پولیس کے تیار کردہ کی پرفارمنسن انڈیکئٹر سے مطمئن نہیں تھیں اور انہوں نے پولیس افسروں کی کارکردگی کی قلعی کھول دی تھی ۔ اسے بعد آئی جی پنجاب نے تمام  افسروں کوحکم دیاتھا کہ وہ ہر جمعہ کو کھلی کچہریاں لگا کر عوام کی شکایات دور کریں مگر ایسا نہ ہوسکا جس کے بعد بالآخر  آئی جی پنجاب کو  کرائم  میٹنگ بلانا پڑی