ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب میں قدیم فوجداری قوانین کو تبدیل کرنے کا فیصلہ

پنجاب میں قدیم فوجداری قوانین کو تبدیل کرنے کا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

قیصر کھوکھر:محکمہ داخلہ نے قوانین کو تبدیل کرنے کیلئے "قانونی اصلاحات کمیٹی" تشکیل دیدی, کمیٹی قدیم فوجداری قوانین کو جدید اور موثر بنانے کیلئے سفارشات پیش کرے گی.

تفصیلات کے مطابق قانونی اصلاحات کمیٹی ضابطہ فوجداری 1898 میں ترمیم کا مسودہ تیار کرے گی, کمیٹی تعزیرات پاکستان 1860 ،قانون شہادت 1984 میں ترامیم کا مسودہ تیار کرے گی۔
قانونی اصلاحات کمیٹی "قومی سلامتی کے قانون" کا مسودہ تیار کرے گی،جرائم کی روک تھام، قانون کے موثر نفاذ ،امن عامہ کی بحالی سے متعلق اصلاحات لائی جائیں گی۔
پنجاب میں خصوصاً خواتین ،بچوں کے تحفظ کے حوالے سے قوانین میں ترامیم تجویز کی جائیں گی،کمیٹی انسداد دہشت گردی، سائبر کرائم،بین الصوبائی رابطہ سے متعلق قوانین میں ترامیم تجویز کریگی،کمیٹی جدید سائنسی تکنیک، قوانین ،معاشرتی تقاضوں سے ہم آہنگ ترامیم تجویز کرے گی۔

 محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق ڈی آئی جی کامران عادل کمیٹی کے سربراہ ہوں گے ،ایڈیشنل سیکرٹری جوڈیشل محکمہ داخلہ عمران حسین رانجھا سیکرٹری ہونگے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ قانون محمد یونس، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب حسن خالد،نمائندہ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب بھی کمیٹی ممبران میں شامل ہوں گے۔
قانونی اصلاحات کمیٹی 3ماہ کے اندر اپنی رپورٹ محکمہ داخلہ کو پیش کرے گی، محکمہ داخلہ پنجاب نے قانونی اصلاحات کی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔