سٹی42: پاکستان تحریک انصاف میں ایک اور زلزلہ کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے پارٹی کے عہدہ سے استعفیٰ دینے کا خود اعلان کر دیا۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل کے عہدہ پر 7 ستمبر 2024 سے کام کر رہے سلمان اکرم راجا نے آج میڈیا کو خود اطلاع دی کہ میں نے پارٹی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ لیکن سلمان اکرم راجا نے ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا گیا، اب، سلمان اکرم راجا کے بقول وہ اپنےاستعفے کے معاملہ کو پارٹی کے بانی کے ساتھ اڈیالہ جیل میں خود ملاقات کر کے اٹھائیں گے۔
سلمان اکرم راجا پی ٹی آئی پنجاب کے سیکرٹری جنرل اور قانونی امور کے سربراہ (21 اگست 2024 سے) ہیں۔ ان کے استعفیٰ دینے کی اطلاع انہوں نے خود میڈیا کو دی۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے منگل کو بانی پی ٹی آئی کو علی بخاری کے ذریعے پیغام پہنچایا تھا۔ بانی پی ٹی آئی نے میری گزارش تسلیم نہیں کی۔
اب سلمان اکرم راجہ کہہ رہے ہیں کہ کل خود بانی پی ٹی آئی سے گزارش کر کے عہدے سے الگ ہو جاؤں گا۔
سلمان اکرن راجا نے پہلی مرتبہ استعفیٰ نہیں دیا۔ گیارہ ماہ عہدہ پر رہنے کے دوران یہ ان کا دوسرا استعفیٰ ہے۔ 30 نومبر 2024 کو بھی انہوں نے خود پر شدید تنقید کے بعد استعفیٰ پیش کیا تھا لیکن استعفیٰ منظور نہیں ہوا تھا۔
آج پیر کی شام تک جو معلومات ہمیں دستیاب ہیں ان کے مطابق سلمان اکرم راجہ موجودہ وقت تک اپنے عہدہ سے جڑے ہوئے ہیں، کوئی گرفتاری یا کوئی بڑی تبدیلی سامنے نہیں آئی۔
سلمان اکرن راجا نے استعفیٰ کیوں دیا
سلمان اکرم راجہ نے استعفیٰ اپنی جماعت کے اندر مسلسل تنقید کے بعد دیا(یا دینے کا اعلان کیا)، ان پر احتجاج کروانے میں ناکامی کے سبب سخت تنقید ہو رہی ہے۔
پی ٹی آئی کی پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ نے بھی پرسوں ہفتے کے روز پی ٹی آئی پنجاب کے بہت سے عہدیداروں کو احتجاج کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھراتے ہوئے انہین شو کاز نوٹس جاری کر دیئے اور انہیں عہدوں سے الگ کرنے کی دھمکی دی۔
سلمان اکرم راجا بھی عالیہ حمزہ کی طرح لاہور سے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ذرائع کے مطابق انہیں جو احتجاج کروانا تھا وہ بنیادی طور پر پنجاب سے ہی کروانا تھا جس میں وہ بری طرح ناکام ہوئے اور پنجاب بھر مین کوئی احتجاج نہین ہوا، انہین ایک قافلہ لے کر اسلام آباد جانا تھا، اس قافلے کا کوئی انتظام ہی نہیں کر سکے۔
احتجاج کا انتظام کرنے میں ناکام
بتایا جاتا ہے کہ PTI نے سلمان اکرم راجہ کو لاہور سے اسلام آباد تک قافلہ لیجانے کی ذمےواری سونپی تھی۔مبینہ طور پر" راستے بند ہونے" کی وجہ سے سلمان اکرم راجا نے لاہور میں ہی احتجاج منانے کا پلان بنایا، لیکن وہ وہاں ورکرز کو سڑکوں تک لانےمیں کامیاب نہ ہوسکے۔
پارٹی کے اندر شدید تنقید کی خبریں میڈیا میں آئیں مطمئن نہ ہوون۔ کئی سینئر لیڈروں نے راجا کی کارکردگی اور احتجاج کی منصوبہ بندی پر تنقید کی، جس کے باعث پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ استعفیٰ دینے پر مجبور ہوئے
اعتراضات اور دباؤ کے باعث اب سلمان اکرم راجا نے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔
ذاتی مسئلے یا اختلاف نہیں
ایک نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق سلمان اکرم راجہ نے اپنے استعفیٰ کا ذکر «ذاتی وجوہات» کے ساتھ کیا، انہوں نے واضح کیا کہ کوئی ذاتی اختلاف—جیسے بشریٰ بی بی کے ساتھ کوئی اختلاف اس استعفے کی وجہ نہیں ہے۔
انہاں نے بعد میں میڈیا کے ساتھ گفتگو میں اس کی وضاحت کی کہ ان کا استعفیٰ کوئی ذاتی مسئلے کی وجہ سے نہیں ، بلکہ سیاسی دباؤ اور پارٹی اندر تنقید کا ہی نتیجہ ہے۔