طلحہ اشرف: حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت میں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ ہو گیا ہے۔ نئی قیمت کے مطابق پٹرول 393 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک بھر میں عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ شہریوں نے اس فیصلے کو ظلم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ نے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف سفری اخراجات بڑھیں گے بلکہ روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں بھی مزید اضافہ متوقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ آمدن میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا، جس سے گزارا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
متعدد شہریوں نے سوال اٹھایا کہ "آمدن کم اور اخراجات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں، ایسے میں عام آدمی کہاں جائے؟"
ماہرین کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات معیشت کے مختلف شعبوں پر مرتب ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے اس حوالے سے مزید اقدامات اور پالیسیوں کا انتظار کیا جا رہا ہے۔