ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نوبیل پرائز گیا بھاڑ میں؛ ٹرمپ نے مذاکرات روک کر پڑوسی کے خلاف جنگ کا بِگل بجا دیا

Trump Tariff war, Canada USA Trade negociations, City42, Trump's post, Truth Social,
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:نوبیل پیس پرائس  حاصل کرنے کے خواہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنا اصل چہرہ دنیا کو دکھا دیا۔ ہمسایہ کے ساتھ ٹیرف مذاکرات اس لئے روک دیئے کہ ہمسایہ ملک میں ان کےاندھا دھند  ٹیرف پر تنقید بہت کی جا رہی ہے۔

 صدر ٹرمپ نے کینیڈین ٹی وی پر چل رہے  اشتہار پر برہم ہو کر  ٹیرف پر مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر کے دنیا کو ایک بار پھر حیران کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کینیڈا پر بے تحاشا ٹیرف نافذ کیا تو اس سے کینیڈا کے ساتھ  امریکہ کی بھی کئی ریاستیں خاص طور سے اور کروڑوں امریکہ عمومی طور پر متاثر ہوئے تھے جو کسی نہ کسی طرح کینیڈا سے آنے والی مصنوعات کی اکانومی سے جڑے ہوئے تھے۔  کینیڈا کی مرکزی حکومت اور امریکہ کو بجلی بیچنے والے ایک صوبے نے ٹرمپ ٹیرف کا سختی کے ساتھ جواب دیا جس کے بعد دونوں ہمسایہ اور بین الاقوامی سیاست میں اتحادی ملکوں کے باہمی تعلقات  بگڑ کر تاریخ کی بدترین سطح پر گر گئے۔ اب ٹرمپ کے وعدے کے مطابق ٹیرف مذاکرات شروع ہوئے تو آج ٹرمپ نے اچانک یہ کہہ کر دنیا کو حیران کر دیا کہ چونکہ کینیڈا کے نیوز چینل پر ٹیرف کے خلاف اشتہار چل رہا ہے اس لئے وہ کینیڈا کے ساتھ ٹیرف مذاکرات بند کر رہے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر یہ دھماکہ کیا  کہ وہ کینیڈا کے ساتھ جاری تمام تجارتی مذاکرات کو ختم کر رہے ہیں، کیونکہ وہاں کے ٹی وی اشتہار میں امریکی ٹیرف پر تنقید کی جا رہی ہے
 صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو دیر رات گئے اپنی پرانی عادت کے مطابق ٹروتھ سوشل پر دھماکہ کیا۔ اس پلیٹ فارم پر ٹرمپ جب کوئی دھماکہ کرتے ہیں تو دنیا کی توجہ اس پلیٹ فارم پر بڑھ جاتی ہے اور وہاں ٹریفک مین کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم ٹرمپ کی ملکیت ہے، اس لئے اپنے کئے ہوئے ہر دھماکے سے ان کو ڈالروں کی بارش کی صورت میں فائدہ ہوتا ہے۔

جمعرات کی رات(پکاستان مین جمعہ کی صبح) ٹرمپ کے نئے دھماکے نے کینیڈا کے ساتھ  امریکہ کے تمام تجارتی مذاکرات کو ختم کر  دیئے  ہیں، کیونکہ ٹرمپ کے بقول وہاں کے ایک ٹی وی اشتہار میں امریکی محصولات (ٹیرف) پر تنقید کی جا رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے صدر کی حیثیت سے وائت ہاؤس مین اپنی دوسری مدت کا  آغاز  ہی بہت سے ملکوں پر  بے تحاشا ٹیرف تھوپ کر کیا تھا، ان ملکوں میں چین کے ساتھ کینیڈا، میکسیو جیسے پڑوسی سرفہرست تھے۔ ٹرمپ کے اس ٹیرف شاک سے دنیا کی معیشت کو شدید جھٹکا لگا اور امریکہ کی معیشت چند گھنٹوں میں بسترِ مرگ پر پہنچ گئی تھی۔ 

اپنے امریکی انویسٹرز کے دباؤ پر ٹرمپ نے بیشتر ٹیرف معطل کر دیئے اور ان ملکوں کے ساتھ ٹیرف مذاکرات کرنے کا اعلان کیا۔ بہت سے ملکوں کے ساتھ ٹرمپ کی ٹیرف بارگیننگ ہو چکی ہے، کینیڈا کے ساتھ یہ عمل جاری تھا۔ 

گزشتہ فروری کے بعد اب تک ٹرمپ ٹیرف کے جھٹکے رہ رہ کر دنیا کی معیشت کو مصیبتوں میں مبتلا کر رہے ہیں۔ ان کی ٹیرف وار کی پالیسی کے سبب کئی ممالک کے لئے  امریکہ کے ساتھ  کاروبار کرنا ممکن نہیں رہا ہے۔ سینکڑوں کارخٓنے بند ہو چکے ہیں اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ 
ٹرمپ کئی ممالک پر بھاری محصولات عائد کر کے ان سے ان کی پالیسیوں میں پیچیدہ تبدیلیاں کروا رہے ہیں جیسے حال ہی مین انہوں نے سو فیصد ٹیرف تھوپ کر انڈیا کو مجبور کیا کہ وہ خام تیل روس کی بجائے کسی دوسرے ملک سے خریدے۔

 ٹیرف کی توپ چلا کر دباؤ بنانے کی ٹرمپ کی حکمت عملی کے سبب کئی ممالک امریکہ کی شرائط پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ ن کو لیکن پڑوسی ملک کینیڈا کے ضمن میں اب تک صرف ناکامی ہی ملی ہے۔ اب انہوں نے کینیڈا کے ساتھ جاری تمام مذاکرات کو ختم ہی کرنے کا اعلان کر دیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے فیصلے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا میں نشر ہو رہا ٹی وی اشتہار امریکہ کی ٹیرف پالیسی کے خلاف ہے۔ انہوں نے کینیڈین ٹی پر چلنے والے ایک ایڈ کو گھناؤنا اور گمراہ کن قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ ان کے ذریعے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ٹرمپ کو پریشان کرنے والا ایڈ کیا ہے
کینیڈین نیوز چینل پر بار بار آنے والا یہ اشتہار کینیڈا کی ریاست اونٹاریو سے نیوز چینل کو ریلیز کیا گیا ہے۔  اس ایڈ میں  کاپی رائٹر نے سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کے پرانے ریڈیو خطاب کی کلپ کا استعمال کیا ہے۔ اس کلپ میں ریگن کو "ٹیرف" پر تنقید کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ اشتہار کا بطاہرمقصد یہ ہے کہ ٹرمپ کی  ٹیرف پالیسی سے کینیڈین معیشت بالخصوص آٹوموبائل سیکٹر کو ہو رہے نقصان کو ظاہر کیا جائے۔ لیکن اس سادہ اور سٹریٹ فارورڈ ایڈ سے یہ بھی تاثر ملتا ہے کہ ٹرمپ نے امریکہ کی دیرینہ پالیسی کی اپ سائیڈ ڈاؤن کر ڈالی ہے۔ درحقیقت تو ٹیرف کم سے کم بلکہ نہ ہونا امریکہ کی معیشتی اور سیاسی پالیسی کی کئی دہائیوں تک بنیاد کا پتھر رہا ہے۔ امریکہ جس کھلی معیشت کی ہمیشہ تبلیغ کرتا رہا، اب ٹرمپ نے امریکہ کے مفادات کا نعرہ لگا کر اس پالیسی کے بالکل برعکس ٹیرف دنیا پر مسلط کر دیئے۔

اس بظاہر بے ضرر لیکن گہرے اثر کے حال آڈیو ویژیول اشتہار سے ٹرمپ اس قدر ناراض ہوئے کہ انہوں نے اسے امریکہ کے خلاف پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کینیڈا کے ساتھ جاری تمام مذاکرات کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

کینیڈا کے ساتھ ٹیرف جنگ کو آگے بڑھاتے ہوئے ٹرمپ شاید یہ بھول گئے کہ جنگ خواہ ٹیرف کی جنگ ہی ہو یہ امن کے برعکس فنامنا ہے اور وہ گزشتہ ہفتے  تک نوبیل پیش پرائز شرمائے بغیرمانگنے میںمصروف رہے ہیں۔