ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مودی کا دورہ اٹلی،ملٹری گریڈ اسٹیل سے بھرے اسرائیلی جہاز وں کو چھڑوانے کا الزام

 مودی کا دورہ اٹلی،ملٹری گریڈ اسٹیل سے بھرے اسرائیلی جہاز وں کو چھڑوانے کا الزام
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 15 سے 20مئی کے دوران متحدہ عرب امارات، نیدر لینڈ، سویڈن، ناروے اور اٹلی کا دورہ کیا تاہم اٹلی میں ان کی سرگرمیوں نے خاصی توجہ حاصل کی۔ وزیر اعظم جارجیا میلونی کیلئے انکے’’میلوڈی‘‘ چاکلیٹ کا تحفہ دیا، اس وجہ سے سوشل میڈیا پر دھوم مچ گئی، جس پر اپوزیشن نے اس کو اوچھی حرکت قرار دیا اور حکومت کو نشانہ بنایا لیکن اب ونچت بہوجن اگھاڑی کے صدر پرکاش امبیڈکر نے وزیراعظم مودی کے اس دورے کو نیا رخ دیتے ہوئے بڑا الزام لگاتے ہوئے  دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم کے یورپ دورہ کا بنیادی مقصد اٹلی جانا اور وہاں روکے گئے ان جہازوں کو چھڑوانا تھا جن پربھارت سے اسرائیل کیلئے ملٹری گریڈ کا اسٹیل بھیجا گیاتھا۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق پرکاش امبیڈکر نے اس تعلق سے باقاعدہ پریس کانفرنس کر کے سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ ان کے مطابق یورپ میں ناروے، سویڈن اور نیدر لینڈس کادورہ میڈیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے تھا،وزیراعظم کی اصل منزل اٹلی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس وقت ملک میں، گیس، ڈیزل، پیٹرول ،کسانوں کیلئے سلفر اور کھاد کا مسئلہ دراصل وزیراعظم مودی کی پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔ اس بات  کی تفصیل فراہم کرتےہوئے انہوں نےبتایا کہ اٹلی میں بائیکاٹ  ڈِس انویسٹ منٹ اینڈ سینکشن (بی ڈی ایس) اور موومنٹ نو ہار بر فار جینوسائڈ (این ایچ بی) نامی2 تنظیمیں ہیں جو اسرائیل اور فلسطین تنازع کے پس منظر میں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ اٹلی کی بندر گاہوں سے ہوکرکوئی سامان اسرائیل نہ جائے۔ پرکاش امبیڈکر نے بتایا کہ یہ تنظیمیں اٹلی کے ملازمین کی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ممبئی کے قریب جے این پی ٹی اور چنئی کی بندرگاہ سے نکلے ہوئے4جہاز مذکورہ تنظیموں کی نشاندہی پر اٹلی میں روکے گئے ہیں جن میں تقریباً 800ٹن ملٹری گریڈ اسٹیل ہے۔ یہ اسٹیل اسرائیل جارہا تھا۔ ان کے مطابق جہاز کو روکنےوالی تنظیموں کا الزام ہے کہ اگریہ اسٹیل اسرائیل پہنچ گیاتواس سے کم از کم 17 ہزار بم گولے تیار ہوں گےجن کا استعمال فلسطین میں نسل کشی کیلئے کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ اور بطور خاص فلسطین کی خبروں کے پورٹل ’مڈل ایسٹ آئی‘ کے مطابق  بائیکاٹ  ، ڈِس انویسٹ منٹ  اینڈ سینکشن (بی ڈی ایس) اور موومنٹ نو ہار بر فار جینوسائڈ(این ایچ بی)  نے متنبہ کیا ہے کہ ہندوستان کی جانب سے اسرائیل کیلئے فوجی سپلائی کا ’’سیلاب‘‘ آگیا ہے۔ دونوں تنظیموں سے وابستہ کارکنوں   کے مطابق، اسرائیل کی اسلحہ ساز فیکٹریوں کی جانب جانے والے مختلف جہازوں میں فوجی معیار کے اسٹیل کی6شپمنٹ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ ان  میں تقریباً806ٹن فوجی معیار کا اسٹیل ہے، جس سے اسرائیلی فوج کیلئے155ملی میٹر کے تقریباً17ہزار 458گولے تیار کئے جا سکتے ہیں۔  مذکورہ تنظیموں کے مطابق  ان میں سے 3شپمنٹ جو جنیوا کی ایک کمپنی کے توسط سے بھیجی جارہی تھیں اٹلی میں روکی گئی ہیں۔ ان میں سے 2کالابریا کے علاقے جیویا تاؤرو اور ایک سارڈینیا کے شہر کالیاری میں موجود ہے، جہاں حکام نے معائنے کیلئے سامان روک رکھا ہے۔

تحریک نے کہا کہ مزید دو شپمنٹ  جیویا تاؤرو میں روکی گئی ہیں، جہاں بندرگاہ کے ملازمین کی تنظیمیں  حکام پر جہازوں کے معائنے کیلئے دباؤ ڈال رہی  ہیں۔ذہن نشین رہے کہ   ان تمام دعوؤں کی جو  پرکاش امبیڈکر کے الزامات کا بھی حصہ ہیں، سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اٹلی کی بندرگاہوں کی مذکورہ مزدور یونینوں نے ان جہازوں کو روک دیا ہے اور وزیراعظم اس بات کو یقینی بنانے کیلئے اٹلی پہنچے ہیں کہ یہ بات منظر عام پر نہ آسکے کہ ہندوستان اسرائیل کو اسٹیل بھیج رہا ہے ۔ پرکاش امبیڈکر نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ایپسٹین فائل میں نام آجانے کی وجہ سے دنیا کا ہر ملک وزیراعظم پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ واضح  رہے کہ اب تک وزیراعظم مودی کا نام ایپسٹین فائل میں ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے ۔  پرکاش امبیڈکر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کو جیسے ہی یہ معلوم ہوا کہ بھارت اسرائیل کو اسٹیل بھیج رہا ہے،اس نے بھارت کو تیل اور گیس کی فراہمی کم کردی اس لئے ملک میں اس وقت ایندھن کا بحران ہے ۔