پولیس اہلکاروں میں نشے کا رحجان بڑھنے لگا!

پولیس اہلکاروں میں نشے کا رحجان بڑھنے لگا!

مانیٹرنگ ڈیسک:  منشیات کے ٹیسٹ کے لیے منتخب کیے جانے والے 48 میں سے 24 پولیس اہلکاروں کا نتیجہ 'مثبت آ  گیا۔

تفصیلات کے مطابق  محکمہ پولیس میں اصلاحات لانے کے لیے وزیر اعظم کے حکم پر پولیس عہدیداروں کے منشیات کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔ مہم کے پہلے روز ضلع قصور میں 48 عہدیداروں کے منشیات کے ٹیسٹ کیے گئے،جن میں سے 24 اہلکار وں کا نتیجہ مثبت آگیا۔پہلے مرحلے میں آئی جی پنجاب انعام غنی کی ہدایت پر اے ایس آئی رینک کے پولیس اہلکاروں کا ٹیسٹ کروایا گیا تھا۔ آئی جی پنجاب انعام غنی نے  کانسٹیبل سے لے کر پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) افسران تک کے عہدیداروں کا ڈرگ ٹیسٹ کروانے کی ہدایت جاری کی تھی۔

ضلعی پولیس کے مطابق اہلکاروں کو داخلی انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر منشیات کے ٹیسٹ کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔  پولیس نے یہ ٹیسٹ کسی سرکاری ہسپتال کی  لیب س کی بجائے ایک نجی لیب سے کرائے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمران کیشور نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں کے مقابلے میں نجی لیب زیادہ قابل اعتماد ہیں۔

ٹیسٹ کے بعد نشے کا عادی قرار دیے جانے والے ایک  پولیس اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر مطالبہ کیا کہ  پولیس کےاعلیٰ عہدیداروں کوےبھی ٹیسٹ کرائے جائیں   تاکہ آئی جی پی کے حکم کو اس کی روح کے مطابق لاگو کیا جاسکے۔ دوسری جانب ڈی پی او نے وضاحت دی کہ منشیات کا ٹیسٹ مثبت ہونے سے کسی کو نشے کا عادی نہیں کہا جاسکتا ۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی نیند کی گولی بھی کھاتا ہے تو اس کا منشیات کے  ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آئے گا۔ اسلئے لیب کی تحقیقات کی تصدیق ماہرین کریں گے۔