ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

شادی کا وعدہ کر کے تعلقات ،عدالت کا ملزم کو ضمانت دینے سے انکار

شادی کا وعدہ کر کے تعلقات ،عدالت کا ملزم کو ضمانت دینے سے انکار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)بھارت کی  دہلی ہائی کورٹ  نے ایک کیس  میں اہم ریمارکس دیتے ہوئے  کہا ہے کہ اگر کوئی مرد شادی کا وعدہ کر کے خاتون کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرتا ہے اور بعد میں ’کنڈلی‘ (زائچہ) نہ ملنے کا بہانہ بنا کر شادی کرنے سے انکار کر دیتا ہے تو یہ قانوناً جرم مانا جا سکتا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق دہلی ہائی کورٹ  کے جج نے اپنے ریمارکس میں  کہا ہے کہ پہلے مسئلہ ختم ہونے کی یقین دہانی اور بعد میں اسی بنیاد پر شادی سے انکار کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خاتون کی رضامندی دھوکے سے لی گئی ہو سکتی ہے۔عدالت نے کہا کہ اگر کوئی مرد شادی کا وعدہ کر کے خاتون کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرتا ہے اور بعد میں ’کنڈلی‘ نہ ملنے کا بہانہ بنا کر شادی کرنے سے انکار کر دیتا ہے تو یہ قانوناً جرم مانا جا سکتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے معاملات میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ شادی کا وعدہ سچا تھا یا محض تعلقات قائم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔

عدالت کی طرف سے یہ ریمارکس  ایک ایسے معاملے کے بعد آئے ہیں، جس میں دہلی ہائی کورٹ میں دائر درخواست کے مطابق ملزم پر عصمت دری کا معاملہ درج ہے۔ اس پر تعزیرات ہند کی دفعہ 69 لگائی گئی ہے۔ دفعہ 69 ایسے معاملات سے متعلق ہے جہاں دھوکہ دہی یا شادی کے جھوٹے وعدے کی بنیاد پر جسمانی تعلقات قائم کیے جاتے ہیں۔متاثرہ خاتون نے الزام لگایا کہ ملزم اس کے ساتھ کافی عرصے سے تعلقات میں رہا اور شادی کے بہانے اس کے ساتھ بار بار جسمانی تعلقات قائم کرتا رہا۔ عدالت میں پیش کی جانے والی واٹس ایپ چیٹس میں یہ بھی اشارہ کیا گیا کہ ملزم نے خاتون کو یقین دلایا تھا کہ دونوں کی کنڈلی مل چکی ہے اور ان کی شادی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ایک میسیج میں اس نے یہاں تک لکھا کہ ’ ہم کل ہی شادی کر رہے ہیں‘‘۔ جس سے جلد شادی ہونے کا بھروسہ دیا گیا۔