ویب ڈیسک:مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکہ نے ایران کے حامی عراقی مسلح گروہوں کے خلاف اپنی کارروائیوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے ایک بڑی پیش رفت کی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ عراق میں سرگرم تنظیم کتائب سید الشہداء کے مبینہ سربراہ ہاشم فنیان رحیم السراجی، جو ابو علاء الولائی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کو 10 ملین ڈالر تک انعام دیا جائے گا۔
امریکہ کی جانب سے اس گروہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے، اور الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے عراقی شہریوں، امریکی سفارتی تنصیبات اور خطے میں موجود امریکی و اتحادی افواج کو متعدد حملوں میں نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کے مطابق مطلوب شخص کے ٹھکانے یا اس سے متعلق قابلِ اعتماد معلومات دینے والوں کو نہ صرف مالی انعام دیا جائے گا بلکہ ممکنہ طور پر محفوظ نقل مکانی کی سہولت بھی فراہم کی جا سکتی ہے۔
ہاشم فنیان السراجی عراق میں موجود شیعہ سیاسی اتحاد کوآرڈینیشن فریم ورک کا حصہ بھی ہیں، جو پارلیمنٹ میں اکثریتی حیثیت رکھتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران سے قریبی تعلق رکھنے والے گروہ ماضی میں بغداد میں امریکی سفارت خانے، ایئرپورٹ اور غیر ملکی کمپنیوں کے زیرِ انتظام تیل کے مراکز پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، اور عراق ایک بار پھر غیر مستحکم صورتحال کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
امریکی انتظامیہ نے اس سے قبل بھی ایک اور ایران نواز گروہ کتائب حزب اللہ کے رہنما کے بارے میں معلومات پر انعام کا اعلان کیا تھا، جس پر ایک امریکی صحافی کے اغوا کے الزام سمیت دیگر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے بغداد پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ ایران نواز مسلح گروہوں کے خلاف سخت اقدامات کرے، جبکہ مالی معاونت اور سیکیورٹی پروگرامز میں بھی کمی کی گئی ہے۔