سٹی 42: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں کی قتل و غارت اور مصائب کا خاتمہ، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف لے جانے والے قابلِ اعتبار سیاسی راستے کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دو ریاستی حل کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا بین الاقوامی اجلاس ’’آگے کا راستہ: نیویارک اعلامیے اور جامع 20 نکاتی امن منصوبے کے ایک سال بعد‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے خطاب ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس معاملے پر اپنے کردار پر فخر بھی ہے اور عاجزی کا احساس بھی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان نے نیویارک اعلامیے کی توثیق کی ہے اور وہ ان 8 عرب و اسلامی ممالک کے گروپ کا حصہ ہے جنہوں نے غزہ امن منصوبے اور بورڈ آف پیس کی حمایت کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے پاکستان نے قرارداد 2803 کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ تمام اقدامات امن کی جانب وسیع تر سیاسی اور سفارتی راستے کے باہم تکمیلی اجزا ہیں اور انہیں ایک دوسرے کو تقویت دینی چاہیے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مقصد ابتدا ہی سے واضح رہا ہے، جس میں بے گناہ فلسطینیوں کی قتل و غارت اور مصائب کا خاتمہ، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور ایسا قابلِ اعتبار سیاسی راستہ آگے بڑھانا شامل ہے جو فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف لے جائے جبکہ سفارت کاری کو زمینی حقائق کے مطابق مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
اُنہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اور بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع شدید باعث تشویش ہے، جبکہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کا تشدد بھی سنگین تشویش کا باعث ہیں قبضے کا یہ نظام ان علاقائی اور سیاسی بنیادوں کو کمزور کر رہا ہے جن پر ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے، اس صورتحال کا فوری طور پر خاتمہ ہونا چاہیے۔
اُنہوں نے کہا کہ نیویارک اعلامیہ عالمی اتفاقِ رائے کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے اہم سیاسی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ نیویارک اعلامیے پر عمل درآمد، غزہ امن منصوبے اور قرارداد 2803 کے ساتھ مل کر مستقل جنگ بندی اور محفوظ و مسلسل انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانا چاہیے امن و استحکام، فلسطینیوں کی فوری بحالی اور تعمیرِ نو اور ایک قابلِ اعتبار، ناقابلِ واپسی اور متعین مدت پر مبنی سیاسی عمل کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا بھی یقینی بنایا جائے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ بالآخر ان تمام کوششوں کا مقصد قبضے کا خاتمہ اور فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کو عملی جامہ پہنانا ہے اس مقصد کے لیے پاکستان 1967 سے پیشگی سرحدوں پر آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس مقصد کے حصول کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔