ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے گلبرگ میں 4 کنال پلاٹ پر قبضے اور غیر قانونی دیوار کے متعلق کیس کی سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کردی اور آئندہ سماعت پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد مزید سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کردی۔
جسٹس راحیل کامران شیخ نے کیس کی سماعت کی ،سماعت کے آغاز پر وکیل وقار اے شیخ نے مؤقف اپنایا کہ ایل ڈی اے کا یہ فرض ہے کہ اگر کوئی سرکاری زمین یا سڑک پر دیوار تعمیر کرے تو وہ اسے گرا دے، مگر ایل ڈی اے اس ذمہ داری کو پورا نہیں کر رہی۔ ایل ڈی اے کو کون سا قانون دیوار گرانے سے روکتا ہے؟اس پر جسٹس راحیل کامران نے ریمارکس دیے کہ آپ کے پاس اس پلاٹ کی ملکیت کا ثبوت کہاں ہے؟ وکیل وقار اے شیخ نے جواب دیا کہ یہ پلاٹ گلبرگ اسکیم کا ہے اور ان کی ملکیت ہے، لیکن سول ایوی ایشن نے اس پلاٹ پر غیر قانونی طور پر دیوار تعمیر کر دی ہے۔سماعت کے دوران وکیل سول ایوی ایشن نے عدالت کو بتایا کہ دیوار دراصل سول ایوی ایشن نے کھڑی کی ہے۔ دوسری جانب ائیر فورس کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ سول ایوی ایشن کو ائیرپورٹ پر متبادل جگہ فراہم کر دی گئی ہے اور اب ائیر فورس اس جگہ پر اسکول تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔اس پر جسٹس راحیل کامران شیخ نے ریمارکس دیے کہ ائیر فورس کا سول آبادی میں کیا کام ہے؟ جب یہاں ائیرپورٹ تھا تو صورتحال مختلف تھی، لیکن اب اس علاقے میں سی بی ڈی (سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ) قائم ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ مختلف اداروں کے ایک دوسرے پر الزامات لگانے کی وجہ سے پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔
عدالت نے تمام فریقین کو مزید وضاحت کے لیے تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کردی۔
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App