ویب ڈیسک: حکومت نے سرکاری ڈومیسائل کے اجرا کی فیس میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے اس نظام کو مزید ڈیجیٹل اور خودکار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت ڈومیسائل حاصل کرنا اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ مہنگا ہو گیا ہے۔
کابینہ کی منظوری کے بعد ڈومیسائل فیس میں 175 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی لاگت 200 روپے سے بڑھ کر 550 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس نئی فیس میں 200 روپے بنیادی فیس، 300 روپے ای-حلف نامہ اور 50 روپے سروس چارج شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ڈومیسائل سسٹم کو مکمل طور پر پیپر لیس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ شہری اب e-Pay پنجاب کے ذریعے فیس ادا کر کے آن لائن درخواست دے سکیں گے اور ڈومیسائل گھر بیٹھے حاصل کر سکیں گے۔
پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو اس نظام کے تحت فی ڈومیسائل 50 روپے سروس چارج رکھنے کی اجازت دی گئی ہے، جس میں سے 500 روپے حکومت کے خزانے میں جبکہ 50 روپے PITB کو ملیں گے۔ اس کے علاوہ ادارے نے ایک مکمل خودکار ڈومیسائل مینجمنٹ سسٹم متعارف کرا دیا ہے، جس میں موبائل ایپ کے ذریعے درخواست اور ادائیگی کی سہولت بھی شامل ہے، جبکہ ڈیجیٹل ویریفکیشن نادرا طرز پر کی جائے گی۔
نئے نظام کے تحت ڈومیسائل کے اجرا کا وقت بھی کم کر کے 2 سے 3 دن تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اضافی اخراجات میں کورئیر سروس کے لیے 60 روپے، سکیورٹی پیپر کے لیے 40 روپے اور ڈیٹا ہوسٹنگ، ایس ایم ایس اور مینٹیننس کے لیے 50 روپے شامل کیے گئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق PITB کے مطابق فی درخواست اوسط لاگت 27.55 روپے آتی ہے، تاہم نظام کی سالانہ لاگت کروڑوں روپے تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
دوسری جانب فنانس ڈیپارٹمنٹ نے فیس میں اضافے پر سوالات اٹھاتے ہوئے عوامی برداشت اور فیس اسٹرکچر میں واضح تضادات کی نشاندہی کی ہے۔ محکمے نے 150 روپے اضافے کی مکمل تفصیل اور بریک اپ طلب کیا ہے جبکہ اسٹیمپ پیپر، کورئیر اور سکیورٹی چارجز میں موجود ابہام پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔
جھ