کئی دہائیوں تک چلنے والی خاندانی دشمنی کا ایک باب ہمیشہ کیلئے بند

کئی دہائیوں تک چلنے والی خاندانی دشمنی کا ایک باب ہمیشہ کیلئے بند

لکھو ڈیر (عرفان ملک) کئی دہائیوں تک چلنے والی خاندانی دشمنی کا ایک باب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند ہو گیا، سہیل شوکت بٹ، اسرار بٹ اور امیر بالاج ٹیپو گروپوں کے درمیان صلح ہو گئی، اب تک 22 افراد اس خاندانی دشمنی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

لکھو ڈیر سے شروع ہونے والی دشمنی کا 3 دشمن دار گروپوں کی صلح سے اختتام ہوگیا، ایک گروپ کے سربراہ جنرل سیکریٹری پیپلز پارٹی اسرار الحق بٹ، دوسری طرف( ن) لیگ کے ایم پی اے سہیل شوکت بٹ ہیں۔ تیسرا گروپ اندرون شہر سے تعلق رکھنے والے ٹیپو ٹرکاں والا کے بیٹے امیربالاج کی سربراہی میں چل رہا ہے، بھسین گاؤں میں صلح کیلئے اکٹھ کیا گیا، جس میں مسلم لیگ (ن )کے رہنما خواجہ عمران نذیر، پاکستان پیپلز پارٹی کے قاسم ضیا بھی شامل ہوئے، بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد نے دعائیہ کلمات کے ساتھ دشمنوں کو گلے لگوا کر دوست بنایا۔ 

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ شہر کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے چھوٹی چھوٹی رنجشوں اور غلط فہمیوں کو دور ہونا چاہیے، اس دشمنی میں باپ اور بھائی کے جنازے اٹھانے والے اسرار بٹ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اللہ کی رضا کے لیے صلح کی، ایم پی اے سہیل شوکت بٹ نے کہا کہ اب تمام غلط فہمیاں دور کر لی گئی ہیں۔

بالاج ٹیپو کا کہنا تھا کہ سنت رسولﷺ پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے سب کو معاف کر دیا۔صلح کے موقع پر جہاں معززین علاقہ موجود تھے، وہیں وہ پرانے دشمن بھی تھے جو اب دوست بن چکے ہیں۔