بچوں کیلئے تعلیم کے دروازے بھی بند

books paper expensive
school education

در نایاب: حکومت کے یکساں تعلیمی نظام کے دعوے دھرے کے دھرے  رہ گئے۔کاپیاں،کاغذ  30 فیصد مہنگا ہوگیا،  پبلشرز نے کاغذ مہنگا ہونے کی وجہ ناقص حکومتی پالیسی قرار دے دی۔

ناقص حکومتی پالیسوں نے بچوں کیلئے تعلیم حاصل کرنا بھی مشکل کردیا ہے، کاغذ 30 فیصد مہنگا ہونے سے بچوں کیلئے کاپیاں اور رجسٹرڈ خریدنا دشوار ہوگیا ہے۔ طالبعلموں کا کہنا ہے کہ کاپی کی قیمت 40 سے 60 روپے اور رجسٹرڈ  60 سے 80 روپے کا ہوگیا ہے۔

صدر اردو بازار خالد پرویز کا کہنا ہے کہ کاغذ پبلشرز پر این او سی کی پابندی عائد کرنے سے مہنگا ہوا ہے،حکومت مقابلے کی فضا قائم کرے تو کاغذ کافی سستا مل سکتا ہے۔ جنرل سیکرٹری اردو بازار عبدالرزاق ببر کا کہنا ہے کہ کاغذ مہنگا ہونے سے والدین کیلئے بھی بچوں کو پڑھانا مشکل ہوگیا ہے۔

کاغذ مہنگا ہونے کے سبب بچوں کا تعلیمی نظام متاثر ہونے کیساتھ دفتری امور بھی بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے،حکومت کوچاہیے کہ وہ تمام پبلشرز کو یکساں مواقعے فراہم کرے تاکہ مارکیٹ میں سستے کاغذ کی فراہمی کو ممکن بنایا جاسکے۔